اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے United Nations Office for the Coordination of Humanitarian Affairs (OCHA) نے خبردار کیا ہے کہ ایران میں جاری جنگ کے باعث انسانی صورتحال تیزی سے بگڑ رہی ہے اور حملوں کا دائرہ ملک کے مختلف حصوں تک پھیل چکا ہے۔
ادارے کے مطابق 17 مارچ سے 3 اپریل کے دوران ہلاکتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا، جبکہ اس عرصے میں ہوائی اڈوں، ہسپتالوں، رہائشی علاقوں، بازاروں، اسکولوں، صنعتی تنصیبات اور ثقافتی ورثے کے مقامات کو نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات موصول ہوئیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جنگ کے آغاز سے 30 مارچ تک 2,100 سے زائد شہری جاں بحق اور تقریباً 28 ہزار زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ 38 لاکھ سے زیادہ افراد اس تنازع سے متاثر ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ یکم اپریل تک ایک لاکھ 15 ہزار سے زائد رہائشی عمارتوں اور یونٹس کو نقصان پہنچا ہے۔
اوچا کے مطابق اہم انفراسٹرکچر اور صنعتی مقامات پر حملوں کے نتیجے میں بجلی، پانی اور ٹیلی کمیونی کیشن جیسی بنیادی سہولیات بری طرح متاثر ہوئی ہیں، جس کے باعث انسانی بحران مزید سنگین ہو گیا ہے۔
ادارے نے خبردار کیا ہے کہ اس صورتحال کے نتیجے میں نہ صرف فوری انسانی ضروریات میں اضافہ ہوا ہے بلکہ طویل مدتی ماحولیاتی اور صحت سے متعلق خطرات بھی بڑھ رہے ہیں، جو خطے کے لیے ایک بڑے چیلنج کی شکل اختیار کر سکتے ہیں۔
