امریکی وزیر خارجہ Marco Rubio نے کہا ہے کہ وہ Syed Asim Munir سے مسلسل رابطے میں ہیں اور امید رکھتے ہیں کہ Iran کے ساتھ ایک اہم معاہدہ طے پا جائے گا۔
سوئیڈن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات میں Pakistan کلیدی ثالثی کردار ادا کر رہا ہے۔
مارکو روبیو کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ ڈیل امریکا کی پہلی ترجیح ہے اور واشنگٹن اس معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے سرگرم سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔
انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ مکمل طور پر کھول دیا جائے گا جبکہ یورینیم افزودگی اور آبنائے ہرمز سے متعلق مسائل کو بھی مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے گا۔
امریکی وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ امریکا ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے سکتا، اسی لیے مختلف سفارتی اور بین الاقوامی ذرائع استعمال کیے جا رہے ہیں۔
مارکو روبیو نے مزید کہا کہ امریکا اس معاملے پر اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم کو بھی استعمال کر رہا ہے تاکہ ایران کو ممکنہ “ٹول ٹیکس نظام” نافذ کرنے سے روکا جا سکے۔
انہوں نے اس بات کا بھی اشارہ دیا کہ اگر مذاکرات کامیاب نہ ہوئے تو امریکا کے پاس متبادل حکمت عملی بھی موجود ہے۔
