وائٹ ہاؤس نے ایران کے ساتھ طے پانے والی دو ہفتے کی جنگ بندی کو امریکی انتظامیہ کی کامیابی قرار دیتے ہوئے اسے امریکہ کے لیے ایک اہم پیش رفت اور فتح سے تعبیر کیا ہے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی میں کمی کے لیے جاری سفارتی کوششوں کے نتیجے میں فریقین کے درمیان وقتی طور پر جنگ بندی پر اتفاق ہوا ہے۔
وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری Karoline Leavitt نے واشنگٹن میں بریفنگ کے دوران کہا کہ یہ پیش رفت امریکہ کی قیادت، صدر Donald Trump کی حکمت عملی اور امریکی فوج کی صلاحیتوں کا نتیجہ ہے، جس نے مقررہ اہداف کو کامیابی سے حاصل کیا۔
انہوں نے کہا کہ ابتدائی اندازوں کے برعکس آپریشن کا دورانیہ کم رہا اور امریکی افواج نے اپنے اہداف متوقع وقت سے پہلے مکمل کیے، جس کے باعث انتظامیہ کو سفارتی سطح پر آگے بڑھنے اور مذاکرات کے لیے ماحول سازگار بنانے کا موقع ملا۔
پریس سیکرٹری کے مطابق فوجی کامیابی نے نہ صرف عسکری دباؤ میں اضافہ کیا بلکہ اس نے مذاکراتی عمل کو بھی تقویت دی، جس کے نتیجے میں جنگ بندی اور ممکنہ طویل المدتی امن کے امکانات پیدا ہوئے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس پیش رفت کے ذریعے خطے میں استحکام کی راہ ہموار ہوئی ہے اور آئندہ مرحلے میں سفارتی کوششوں کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔
وائٹ ہاؤس کی جانب سے یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ امریکہ نے اس دوران اہم اسٹریٹجک مقاصد حاصل کیے اور خطے میں اپنے مفادات کا تحفظ مؤثر انداز میں یقینی بنایا، جبکہ جنگ بندی کو مستقبل کے مذاکرات کے لیے ایک بنیاد کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
