ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی کے اچانک اعلان کے بعد ایرانی دارالحکومت تہران میں غیر معمولی صورتحال دیکھنے میں آئی، جہاں بدھ کی صبح سرکاری اعلان نشر ہوتے ہی شہریوں کی بڑی تعداد سڑکوں پر نکل آئی۔
سرکاری ٹیلی ویژن کے ذریعے جنگ بندی اور امریکی پسپائی کے اعلان کے بعد شہر کے مختلف علاقوں میں عوامی اجتماع دیکھنے میں آیا۔ ایک جانب حکومت کے حامی افراد نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے فتح کے نعرے لگائے، جبکہ دوسری جانب کچھ شہری اس معاہدے کو شک و شبہ کی نگاہ سے دیکھتے رہے۔
مظاہرین کے بعض گروہوں نے امریکا اور اسرائیل کے خلاف نعرے بازی کی اور ان کے پرچم نذرِ آتش کیے۔ صورتحال کے دوران منتظمین کی جانب سے ہجوم کو پرامن رکھنے کی کوششیں بھی کی گئیں، تاہم عوامی جوش و خروش برقرار رہا۔
سڑکوں پر موجود بعض شہریوں نے کہا کہ وہ اپنے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کے فیصلے کی مکمل حمایت کرتے ہیں اور اگر انہوں نے جنگ بندی کو تسلیم کیا ہے تو وہ بھی اس پر رضامند ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں اپنی قیادت کی بصیرت پر اعتماد ہے۔
دوسری جانب کچھ شہریوں نے امریکا پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ ماضی میں مذاکرات کے دوران بھی کشیدگی اور حملوں کے واقعات پیش آ چکے ہیں، اس لیے موجودہ جنگ بندی کو مکمل طور پر قابلِ بھروسا قرار نہیں دیا جا سکتا۔
مظاہرین کے ایک حصے کا خیال تھا کہ یہ معاہدہ ممکنہ طور پر فریقین کو دوبارہ منظم ہونے کا موقع فراہم کرنے کے لیے ہو سکتا ہے، خاص طور پر اسرائیل کے حوالے سے خدشات کا اظہار کیا گیا۔
شہریوں کے ہجوم میں بعض افراد حیرت اور کنفیوژن کا شکار بھی نظر آئے۔ ایک خاتون شہری نے نشاندہی کی کہ شہر میں لگے بعض اشتہاری بورڈز پر آبنائے ہرمز کو بند رکھنے کے اعلانات موجود ہیں، جبکہ موجودہ صورتحال میں اسے کھولنے کی بات کی جا رہی ہے، جس نے عوامی سوالات کو جنم دیا۔
مجموعی طور پر سرکاری سطح پر جنگ بندی کو ایک اہم پیش رفت اور کامیابی کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، تاہم تہران کی سڑکوں پر موجود عوامی ردِعمل سے ظاہر ہوتا ہے کہ شہریوں میں اب بھی غیر یقینی صورتحال اور خدشات پائے جاتے ہیں کہ آیا یہ امن مستقل ہوگا یا وقتی ثابت ہوگا۔

