Cheng Li-wen، جو تائیوان کی بڑی اپوزیشن جماعت Kuomintang کی چیئر وومن ہیں، نے چین کے شہر شنگھائی میں امن کے فروغ پر زور دیتے ہوئے علامتی انداز میں کہا کہ “پرندوں کو آسمان میں اڑنا چاہیے، میزائلوں کو نہیں”۔
یہ بیان انہوں نے ایسے وقت میں دیا جب وہ چین کے دورے پر ہیں، جسے انہوں نے کشیدگی میں کمی کے لیے ایک “امن مشن” قرار دیا ہے۔ ان کا دورہ اس تناظر میں اہم سمجھا جا رہا ہے کہ China اور Taiwan کے درمیان تعلقات بدستور کشیدہ ہیں۔
شنگھائی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے قدیم نارس ملاحوں کے حوالے سے بھی بات کی اور کہا کہ سمندر کو “وہیل کی سڑک” کے طور پر بیان کرنا عاجزی اور امن کی علامت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جس طرح آسمان میں پرندے اور پانی میں مچھلیاں فطری طور پر رہتی ہیں، اسی طرح خطے میں امن کو فروغ ملنا چاہیے نہ کہ جنگی سرگرمیوں کو۔
چینگ نے اپنی گفتگو میں پہلی جنگ عظیم کی ایک نظم کا حوالہ بھی دیا اور امن کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ اور آنے والی نسلوں کے لیے استحکام ضروری ہے۔
دوسری جانب China نے تائیوان کے صدر کو “علیحدگی پسند” قرار دیتے ہوئے ان سے براہ راست مذاکرات سے انکار کر رکھا ہے، جبکہ تائیوان کی حکومت نے چینگ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بیجنگ پر فوجی دباؤ کم کرنے کے لیے بات کریں۔
تائیوان کی وزارت دفاع کے مطابق چین نے حالیہ 24 گھنٹوں کے دوران جزیرے کے گرد چھ فوجی طیارے اور آٹھ جنگی جہاز بھیجے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ بیجنگ کی فوجی سرگرمیاں بدستور جاری ہیں۔
