کیتھولک مسیحیوں کے روحانی پیشوا Pope Leo نے جنگ پسند عناصر پر سخت تنقید کرتے ہوئے عالمی رہنماؤں کو فوری طور پر امن کی راہ اختیار کرنے کا پیغام دیا ہے۔
St. Peter’s Basilica میں امن کے لیے منعقدہ دعائیہ اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دنیا میں خود پرستی، دولت کی پرستش اور طاقت کے مظاہرے حد سے بڑھ چکے ہیں، جبکہ جنگوں نے انسانیت کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ حقیقی طاقت کا اظہار زندگی کی خدمت اور انسانیت کی بھلائی میں ہے، نہ کہ تباہ کن ہتھیاروں یا جنگی حکمت عملیوں میں۔
پوپ لیو نے عالمی رہنماؤں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ان پر بھاری ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں، لہٰذا وہ فوری طور پر جنگی پالیسیوں کو ترک کریں اور مذاکرات و ثالثی کے ذریعے مسائل کا حل تلاش کریں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ رہنما ایسے فورمز سے دور رہیں جہاں اسلحے میں اضافے اور مہلک اقدامات کی منصوبہ بندی کی جاتی ہے، اور اس کے بجائے امن کی میز پر بیٹھ کر پائیدار حل تلاش کریں۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دنیا کے مختلف خطوں میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی سطح پر امن کی اپیلیں زور پکڑ رہی ہیں۔
