ماسکو: روس اور افغانستان کے درمیان فوجی اور تکنیکی تعاون کے ایک اہم معاہدے پر دستخط کر دیے گئے ہیں، جسے دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک نمایاں پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ معاہدہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں سکیورٹی، انسداد دہشت گردی اور دفاعی تعاون کے معاملات عالمی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق معاہدے پر دستخط ماسکو ریجن میں منعقد ہونے والے پہلے بین الاقوامی سکیورٹی فورم کے دوران کیے گئے۔ یہ فورم روسی سلامتی کونسل کی سرپرستی میں 26 سے 29 مئی تک جاری رہا، جس میں دنیا کے مختلف ممالک کے سکیورٹی، دفاعی اور خارجہ امور کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
معاہدے کا بنیادی مقصد روس اور افغانستان کے درمیان دفاعی، فوجی اور تکنیکی شعبوں میں تعاون کو فروغ دینا ہے۔ تاہم روسی حکام نے ابھی تک معاہدے کی تفصیلی شقوں کو عوامی سطح پر جاری نہیں کیا، جس کے باعث اس بات پر قیاس آرائیاں جاری ہیں کہ آیا اس میں فوجی سازوسامان کی فراہمی، دفاعی تربیت، انٹیلی جنس تعاون یا مشترکہ سکیورٹی منصوبے شامل ہیں یا نہیں۔
بین الاقوامی سکیورٹی فورم کے دوران مختلف علاقائی اور عالمی پلیٹ فارمز کے تحت بھی اجلاس منعقد کیے گئے، جن میں برکس (BRICS)، دولتِ مشترکہ آزاد ریاستوں (CIS)، روس۔آسیان اور روس۔وسطی ایشیا تعاون کے فریم ورک شامل تھے۔ فورم میں گول میز کانفرنسوں، پالیسی مباحثوں، سٹریٹجک سیشنز اور سکیورٹی سے متعلق خصوصی نمائشوں کا بھی انعقاد کیا گیا۔
دفاعی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ افغانستان میں طالبان حکومت کے اقتدار سنبھالنے کے بعد ماسکو اور کابل کے درمیان بڑھتے ہوئے روابط کی عکاسی کرتا ہے۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران روس نے افغانستان کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی روابط میں اضافہ کیا ہے، جبکہ دونوں فریق خطے میں استحکام اور انسداد دہشت گردی کے حوالے سے تعاون پر بھی زور دیتے رہے ہیں۔
