قطر کا آبنائے ہرمز پر مؤقف، عارضی ٹول ٹیکس قابلِ قبول، مستقل وصولی مسترد

Iran working on new “management plan” for the Strait of Hormuz, ship bans and toll fees possible

دوحہ: قطر نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں پر عارضی بنیادوں پر ٹول ٹیکس عائد کرنے کے امکان کو قابلِ غور قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ مستقل بنیادوں پر ایسی وصولی عالمی تجارت اور صارفین کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔

سنگاپور میں منعقدہ شنگریلا ڈائیلاگ سیکیورٹی فورم سے خطاب کرتے ہوئے شیخ سعود عبدالرحمان الثانی نے کہا کہ اگر ایران بارودی سرنگوں کی صفائی، بحری راستوں کے تحفظ اور دیگر ہنگامی انتظامات کے اخراجات پورے کرنے کے لیے محدود مدت تک ٹول ٹیکس وصول کرتا ہے تو اس پر بات چیت کی جا سکتی ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ مستقل بنیادوں پر ٹول ٹیکس نافذ کرنے کی صورت میں اس کا مالی بوجھ بالآخر عالمی صارفین اور توانائی کی منڈیوں پر پڑے گا، جو کسی طور قابلِ قبول نہیں ہوگا۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت بحال ہونے کے اشارے مل رہے ہیں۔ امریکی صدر Donald Trump کی جانب سے ایران کی مبینہ بحری ناکہ بندی کے خاتمے کے اعلان کے بعد گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 24 بحری جہاز آبنائے ہرمز سے گزر چکے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق گزرنے والے جہازوں میں تیل بردار ٹینکرز اور کنٹینر بردار بحری جہاز شامل تھے، جبکہ ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ ان جہازوں کی محفوظ نقل و حرکت ایرانی بحریہ کے تعاون سے ممکن بنائی گئی۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے