پاکستان نے جنوبی ایشیائی جوجٹسو چیمپئن شپ 2026 میں غیر معمولی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مجموعی طور پر دوسری پوزیشن حاصل کر لی ہے۔ قومی ٹیم نے 12 طلائی، 5 چاندی اور 5 کانسی کے تمغے جیت کر کل 22 میڈلز اپنے نام کیے اور خطے میں اپنی مضبوط موجودگی کا بھرپور اظہار کیا۔
یہ چیمپئن شپ سری لنکا کے شہر ڈگانا میں منعقد ہوئی، جہاں پاکستان نے خاص طور پر ڈیو (Duo) اور شو سسٹم کیٹیگریز میں شاندار برتری قائم کی۔ ان مقابلوں میں قومی کھلاڑیوں نے نہ صرف مختلف سطحوں پر کامیابیاں حاصل کیں بلکہ کئی فائنلز میں پاکستانی ایتھلیٹس ہی ایک دوسرے کے مدِ مقابل آئے، جو ٹیم کی گہرائی اور معیار کا واضح ثبوت ہے۔
ایڈلٹ ڈیو کیٹیگری میں محمد علی راشد اور محمد یوسف علی نے ڈیو مین/کلاسک میں گولڈ میڈل جیتا، جبکہ علی راشد نے ڈاکٹر اسرا وسیم کے ساتھ مل کر ڈیو مکسڈ میں بھی طلائی تمغہ حاصل کیا۔ خواتین کی ڈیو ویمن/شو کیٹیگری میں کائنات عارف اور اسرا وسیم نے سلور میڈل اپنے نام کیا، جبکہ رشال خان اور عبداللہ نے ڈیو مکسڈ میں چاندی کا تمغہ جیتا۔
شو سسٹم کیٹیگری میں بھی پاکستان کا مکمل غلبہ دیکھنے میں آیا۔ محمد یوسف علی اور عمر یاسین نے مردوں کے مقابلوں میں گولڈ جیتا، جبکہ کائنات عارف اور اسرا وسیم نے ویمن کیٹیگری میں کامیابی حاصل کی۔ اسی طرح محمد علی راشد اور اسرا وسیم نے مکسڈ کیٹیگری میں بھی طلائی تمغہ جیت کر پاکستان کے میڈلز میں اضافہ کیا۔
نوجوان کھلاڑیوں نے بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ انڈر 16 کیٹیگری میں زنیرہ ذوالفقار اور سندس علی نے گولڈ میڈل جیتا، جبکہ انڈر 18 میں محمد عبداللہ علی اور سندس علی نے پہلی پوزیشن حاصل کی۔ مزید برآں عباد الرحمان اور محمد عبداللہ علی نے سلور میڈل اپنے نام کیا، جو پاکستان کے مستقبل کے لیے خوش آئند اشارہ ہے۔
انفرادی مقابلوں میں بھی پاکستانی کھلاڑی نمایاں رہے۔ محمد علی راشد نے 62 کلوگرام میں گولڈ، عبداللہ نے 77 کلوگرام میں گولڈ، جبکہ کائنات عارف نے 57 کلوگرام میں سونے کا تمغہ حاصل کیا۔ رشال خان نے ایک سلور اور ایک براؤنز میڈل جیتا، جبکہ زنیرہ ذوالفقار نے انڈر 16 (-44 کلوگرام) میں کانسی کا تمغہ حاصل کیا۔
پاکستان جوجٹسو فیڈریشن کے بانی صدر خلیل احمد خان نے اس کامیابی کو عالمی سطح پر پاکستان کا مضبوط پیغام قرار دیتے ہوئے کہا کہ تمام ڈیو کیٹیگریز میں گولڈ اور سلور جیتنا ایک غیر معمولی کارنامہ ہے۔ فیڈریشن کے جنرل سیکرٹری طارق علی کے مطابق پاکستان اس وقت جنوبی ایشیا میں جوجٹسو کے میدان میں نمایاں برتری حاصل کر چکا ہے۔
گولڈ میڈلسٹ ڈاکٹر اسرا وسیم نے کہا کہ اپنی ہی ٹیم کے کھلاڑیوں کے خلاف مقابلہ کرنا جذباتی لمحہ تھا، تاہم یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان کے پاس عالمی معیار کی ایک مضبوط اور متوازن ٹیم موجود ہے۔
فیڈریشن کی جانب سے نمایاں کارکردگی دکھانے والے کھلاڑیوں کے لیے صدارتی ایوارڈز اور نقد انعامات کا اعلان بھی کیا گیا ہے، جبکہ آئندہ ایشیائی اور عالمی چیمپئن شپ کے لیے تیاریوں کو مزید تیز کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ یہ کامیابی پاکستان میں جوجٹسو کے فروغ اور عالمی سطح پر اس کی پہچان کو مزید مستحکم کرنے میں اہم سنگِ میل ثابت ہو سکتی ہے۔
