امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنگ بندی برقرار ہے لیکن ساتھ ہی ایران کے خلاف ناکہ بندی جاری رکھی جائے گی، جس کے تحت تہران اپنی تیل کی برآمدات نہیں کر سکے گا۔
اپنے بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران اس وقت انتہائی مشکل صورتحال سے گزر رہا ہے اور امریکا کو اس بات کی پرواہ نہیں کہ ایران دوبارہ مذاکرات کی میز پر آتا ہے یا نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکا ایران کو کسی صورت ایٹمی ہتھیار بنانے کی اجازت نہیں دے گا۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ ان کے خیال میں ایران بالآخر مذاکرات کی طرف واپس آئے گا اور امریکا کے مطالبات تسلیم کرنے پر مجبور ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ صورتحال اس نہج پر پہنچ چکی ہے جہاں ایران کے پاس محدود آپشنز باقی رہ گئے ہیں۔
مذہبی حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ کیتھولک مسیحیوں کے پیشوا پوپ لیو کے بڑے مداح نہیں ہیں، جو ان کے بیان کا ایک غیر متوقع پہلو تھا۔
قبل ازیں امریکی صدر پاکستان کے حوالے سے بھی مثبت رائے کا اظہار کر چکے ہیں، جہاں انہوں نے شہباز شریف اور عاصم منیر کو غیر معمولی شخصیات قرار دیتے ہوئے ان کی قیادت کو سراہا تھا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ٹرمپ کے حالیہ بیانات خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، خصوصاً ایسے وقت میں جب ایران اور امریکا کے تعلقات پہلے ہی تناؤ کا شکار ہیں اور عالمی سطح پر توانائی اور سلامتی کے خدشات بڑھ رہے ہیں۔
