کسی سیاسی بحث میں الجھنا نہیں چاہتے، جنگوں کے خلاف کھل کر بات کرنا ان کی ذمہ داری ہے، پاپ لیو کا ٹرمپ کو جواب

مصنوعی ذہانت انسانی شناخت، باہمی تعلقات اور سماجی توازن کے لیے سنجیدہ خطرات پیدا کر سکتی ہے، پوپ لیو چہارم

کیتھولک مسیحیوں کے مذہبی پیشوا پوپ لیو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تنقید کے جواب میں واضح کیا ہے کہ وہ اختلافات کے باوجود جنگ کے خلاف آواز بلند کرتے رہیں گے۔

پوپ لیو نے کہا کہ وہ کسی سیاسی بحث میں الجھنا نہیں چاہتے، تاہم دنیا میں جاری تنازعات اور جنگوں کے خلاف کھل کر بات کرنا ان کی ذمہ داری ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ عالمی مسائل کے منصفانہ حل کے لیے امن، مکالمے اور ممالک کے درمیان کثیرالجہتی تعلقات کو فروغ دینا ناگزیر ہے۔ ان کے مطابق صرف طاقت کے بجائے سفارتکاری اور بات چیت ہی پائیدار حل فراہم کر سکتی ہے۔

پوپ لیو نے کہا کہ آج دنیا میں بڑی تعداد میں لوگ مشکلات کا شکار ہیں اور بے گناہ شہری جانیں گنوا رہے ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ کوئی آواز اٹھا کر یہ یاد دلائے کہ مسائل کا پرامن حل بھی ممکن ہے۔

انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ عالمی سطح پر امن کے فروغ اور تنازعات کے حل کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھیں گے، چاہے ان پر کسی بھی طرف سے تنقید کیوں نہ کی جائے۔

یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب ڈونلڈ ٹرمپ نے پوپ لیو پر ایران اور عالمی خارجہ پالیسی سے متعلق ان کے مؤقف پر سخت تنقید کی تھی، جس کے بعد دونوں شخصیات کے بیانات عالمی میڈیا میں نمایاں توجہ حاصل کر رہے ہیں۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے