بیروت / تہران — لبنان اور اسرائیل کے درمیان 10 روزہ جنگ بندی کا باقاعدہ آغاز ہو گیا ہے، جس کے بعد خطے میں عارضی طور پر کشیدگی میں واضح کمی دیکھی جا رہی ہے۔ معاہدے کے نفاذ کے ساتھ ہی لبنان کے دارالحکومت بیروت میں شہری بڑی تعداد میں سڑکوں پر نکل آئے اور جشن منایا۔
بیروت میں عوامی خوشی، ہوائی فائرنگ کے واقعات
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق جنگ بندی کے اعلان کے بعد بیروت کے مختلف علاقوں میں شہری گھروں سے باہر نکل آئے اور امن کی بحالی پر خوشی کا اظہار کیا۔ بعض مقامات پر ہوائی فائرنگ بھی کی گئی، تاہم مجموعی طور پر فضا میں جشن اور ریلیف کا ماحول دیکھا گیا۔
شہریوں نے امید ظاہر کی کہ یہ پیش رفت مستقبل میں مستقل امن کی جانب پہلا قدم ثابت ہو سکتی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب خطہ طویل عرصے سے کشیدگی اور عسکری کارروائیوں کی زد میں رہا ہے۔
تہران میں ردعمل، حزب اللہ کے حق میں نعرے
دوسری جانب ایران کے دارالحکومت تہران میں بھی اس جنگ بندی پر ردعمل سامنے آیا، جہاں شہریوں کی ایک بڑی تعداد نے سڑکوں پر آکر حزب اللہ کے حق میں نعرے لگائے۔
ایرانی پاسداران انقلاب کی قدس فورس کے کمانڈر اسماعیل قاآنی نے اپنے بیان میں کہا کہ لبنان اور خطے کے عوام اس بات کو سمجھتے ہیں کہ حالیہ جنگ میں “مزاحمت” کو کامیابی حاصل ہوئی ہے۔
انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ یہ جنگ بندی لبنان کی مزاحمت اور ایران کی حمایت کا نتیجہ ہے، جس نے صورتحال کو اس مرحلے تک پہنچایا۔
