روس کا یوکرین پر بڑا میزائل اور ڈرون حملہ، کیف اور دنیپرو میں کم از کم 22 افراد ہلاک

یوکرین کے دارالحکومت کیف سمیت متعدد شہروں پر روس کے بڑے پیمانے پر میزائل اور ڈرون حملوں کے نتیجے میں کم از کم 22 افراد ہلاک جبکہ 100 سے زائد زخمی ہو گئے۔ یوکرینی حکام کے مطابق یہ حملے منگل کی صبح سویرے کیے گئے اور حالیہ مہینوں میں ہونے والے شدید ترین فضائی حملوں میں شمار کیے جا رہے ہیں۔

یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ روس نے رات بھر جاری رہنے والے حملوں میں 73 میزائل اور 600 سے زائد ڈرون استعمال کیے۔ ان کے مطابق حملوں کا بنیادی ہدف کیف، دنیپرو اور دیگر اہم شہری مراکز تھے جہاں رہائشی عمارتوں، طبی مراکز، سرکاری دفاتر اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا۔

صدر زیلنسکی نے بین الاقوامی برادری، خصوصاً امریکا سے اپیل کی کہ یوکرین کو مزید فضائی دفاعی نظام اور پیٹریاٹ میزائل فراہم کیے جائیں تاکہ شہری آبادی کو روسی حملوں سے محفوظ بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ یہ حملے اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ روس یوکرین کے خلاف اپنی عسکری کارروائیاں جاری رکھنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

یوکرینی حکام کے مطابق دارالحکومت کیف میں کم از کم 6 افراد ہلاک اور 80 سے زائد زخمی ہوئے جبکہ جنوب مشرقی شہر دنیپرو میں 16 افراد جان کی بازی ہار گئے۔ زخمیوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ متعدد رہائشی عمارتیں تباہ ہو گئیں جبکہ ہزاروں افراد کو عارضی طور پر محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔

حملوں کے دوران کیف کے زیرِ زمین میٹرو اسٹیشنوں میں 40 ہزار سے زائد شہریوں نے پناہ لی۔ مقامی افراد کے مطابق شہر میں زور دار دھماکوں، آگ کے شعلوں اور دھوئیں کے بادلوں نے خوف و ہراس کی فضا پیدا کر دی۔ کئی علاقوں میں بجلی کی فراہمی بھی متاثر ہوئی اور تقریباً ایک لاکھ چالیس ہزار صارفین کچھ وقت کے لیے بجلی سے محروم رہے۔

یوکرینی فضائیہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے متعدد میزائل اور سینکڑوں ڈرونز کو تباہ یا ناکارہ بنایا، تاہم کچھ جدید بیلسٹک اور ہائپرسونک میزائل اپنے اہداف تک پہنچنے میں کامیاب رہے۔ حکام کے مطابق روس نے پہلی مرتبہ بڑی تعداد میں زرکون ہائپرسونک میزائل بھی استعمال کیے۔

دوسری جانب روسی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ حملوں کا ہدف یوکرین کی دفاعی صنعت، عسکری تنصیبات اور فوجی انفراسٹرکچر تھا۔ ماسکو نے دعویٰ کیا کہ کارروائی مخصوص فوجی اہداف کے خلاف کی گئی جبکہ یوکرین نے الزام عائد کیا ہے کہ روس مسلسل شہری علاقوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے