جنگ بندی مذاکرات کا دروازہ کھولتی ہے، اسرائیلی انخلا ناگزیر ہے: جوزف عون

Ceasefire opens door to negotiations, Israeli withdrawal is inevitable: Joseph Aoun

بیروت — لبنانی صدر جوزف عون نے کہا ہے کہ حالیہ جنگ بندی خطے میں مثبت اور بامعنی مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کا ایک اہم موقع فراہم کرتی ہے، جسے ضائع نہیں ہونا چاہیے۔

عرب میڈیا کے مطابق بیروت سے جاری اپنے بیان میں لبنانی صدر کا کہنا تھا کہ جنگ بندی کے اقدام کو مقامی اور بین الاقوامی سطح پر سراہا گیا ہے، تاہم براہ راست مذاکرات ایک نازک اور حساس مرحلہ ہوتے ہیں جنہیں دانشمندی سے آگے بڑھانا ہوگا۔

انہوں نے واضح کیا کہ جنگ بندی صرف عارضی سکون نہیں بلکہ ایک سفارتی موقع ہے، جو فریقین کو دیرپا حل کی جانب لے جا سکتا ہے۔ ان کے بقول، یہی عمل مستقبل میں کشیدگی کم کرنے اور خطے میں استحکام لانے کا مؤثر ذریعہ بن سکتا ہے۔

لبنانی صدر نے اس بات پر زور دیا کہ اسرائیلی افواج کے انخلا کے بعد لبنانی فوج بین الاقوامی سرحد پر اپنی ذمہ داریاں سنبھالنے کے لیے تیار ہے اور اس سلسلے میں ریاستی اداروں کا کردار کلیدی ہوگا۔

جوزف عون نے مزید کہا کہ لبنان کا مؤقف بالکل واضح ہے:

  • جنگ بندی کو برقرار رکھا جائے
  • اسرائیلی فوج کا مکمل انخلا یقینی بنایا جائے
  • قیدیوں کی واپسی عمل میں لائی جائے
  • اور سرحدی تنازعات کا مستقل حل نکالا جائے

تجزیہ کاروں کے مطابق لبنانی قیادت کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں عارضی جنگ بندی کے بعد سفارتی سرگرمیاں تیز ہو رہی ہیں، اور فریقین کے درمیان باضابطہ مذاکرات کی راہ ہموار کی جا رہی ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے