United States نے روسی تیل کی خرید و فروخت پر عائد پابندیوں میں مزید ایک ماہ کی نرمی کا اعلان کر دیا ہے، جس کے تحت مخصوص شرائط کے ساتھ روسی تیل کی تجارت 16 مئی تک جاری رکھی جا سکے گی۔
امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق اس فیصلے کا مقصد عالمی منڈی میں تیل کی ممکنہ قلت کو روکنا اور قیمتوں میں استحکام لانا ہے، جو حالیہ علاقائی کشیدگی کے باعث بڑھ گئی تھیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس رعایت کے تحت صرف وہی روسی تیل خریدا جا سکے گا جو پہلے سے آئل ٹینکرز پر لدا ہوا ہو اور سمندر میں موجود ہو، جبکہ نئی سپلائی یا تازہ لوڈنگ اس استثنیٰ میں شامل نہیں ہوگی۔
امریکی لائسنس میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ نرمی صرف روسی تیل تک محدود ہے اور اس میں Iran، Cuba اور North Korea سے متعلق کسی بھی قسم کی تجارتی سرگرمی شامل نہیں ہوگی، یعنی ان ممالک پر پابندیاں بدستور برقرار رہیں گی۔
تجزیہ کار اس اقدام کو واشنگٹن کی جانب سے توانائی کی عالمی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کی حکمت عملی قرار دے رہے ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث تیل کی سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔
دوسری جانب Iran کی جانب سے Strait of Hormuz کو مکمل طور پر کھولنے کے اعلان کے بعد عالمی تیل منڈی میں قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے، جس سے سپلائی کے خدشات وقتی طور پر کم ہوئے ہیں۔
