ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت کے حوالے سے نئے احکامات جاری کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ اب اس اہم گزرگاہ سے گزرنے والے جہازوں کو ایرانی نیوی کی پیشگی اجازت حاصل کرنا ہوگی۔
پاسدارانِ انقلاب کے مطابق تمام تجارتی اور دیگر جہازوں کو ایران کی جانب سے مقرر کردہ مخصوص سمندری راستوں پر ہی سفر کرنا ہوگا، جبکہ کسی بھی غیر مجاز نقل و حرکت پر سخت پابندی عائد کی گئی ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ جنگی یا نیول جہازوں کے گزرنے پر خصوصی نگرانی کی جائے گی اور اس ضمن میں سخت قواعد لاگو ہوں گے۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات لبنان اور اسرائیل کے درمیان حالیہ جنگ بندی کے بعد خطے میں سکیورٹی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے کیے گئے ہیں، تاکہ کسی بھی ممکنہ کشیدگی یا خلاف ورزی کو روکا جا سکے۔
قبل ازیں ایرانی حکومت بھی واضح کر چکی ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تمام جہازوں کے لیے ایرانی فورسز سے اجازت لینا لازمی ہوگا اور صرف طے شدہ آبی راستوں پر ہی سفر کی اجازت دی جائے گی۔
ایرانی نیول کمانڈر شہرام ایرانی نے اپنے بیان میں امریکی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ امریکی اقدامات درحقیقت ایران کے بجائے اس کے اتحادیوں کے لیے مشکلات پیدا کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کے بیانات کو عالمی سطح پر سنجیدگی سے نہیں لیا جا رہا۔
دوسری جانب پاسدارانِ انقلاب نے خبردار کیا ہے کہ اگر کوئی فوجی جہاز آبنائے ہرمز میں داخل ہونے کی کوشش کرے گا تو اسے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا اور اس پر فوری اور سخت ردعمل دیا جائے گا۔
ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز عالمی توانائی سپلائی کے لیے نہایت اہم گزرگاہ ہے، جہاں سے دنیا کے تیل کا بڑا حصہ گزرتا ہے، اس لیے ایران کے ان اقدامات کے عالمی تجارت اور توانائی منڈیوں پر اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے۔
