بیلاروس کے صدر کی امریکا پر تنقید، جوایران سے نہیں جیت سکا چین سے کیا مقابلہ کرئے گا ؟

Belarusian President

بیلاروسی صدر Alexander Lukashenko نے امریکا کی خارجہ پالیسی اور عالمی کردار پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر امریکا Iran کا مقابلہ نہیں کر سکا تو اسے China جیسی بڑی طاقت سے ٹکرانے سے گریز کرنا چاہیے۔

روسی میڈیا کو دیے گئے انٹرویو میں بیلاروسی صدر نے کہا کہ امریکی پالیسیوں سے یہ واضح ہو گیا ہے کہ امریکا اتنا طاقتور نہیں جتنا اسے سمجھا جاتا ہے۔ ان کے مطابق ایران کے خلاف کامیابی حاصل نہ کر پانا اس بات کا ثبوت ہے کہ چین جیسے ملک کے ساتھ براہ راست محاذ آرائی امریکا کے لیے مزید مشکل ہو گی۔

انہوں نے کہا کہ امریکا کے بنیادی مفادات دنیا بھر میں تیل اور گیس کے وسائل پر کنٹرول حاصل کرنا ہیں، اور اسی مقصد کے لیے وہ مختلف خطوں میں مداخلت کرتا رہا ہے۔

اپنے خلاف لگائے گئے “آمر” ہونے کے امریکی الزامات پر ردعمل دیتے ہوئے الیگزینڈر لوکاشینکو نے کہا کہ اصل آمریت تو Cuba، Venezuela اور بعض مشرقِ وسطیٰ کے ممالک میں امریکی پالیسیوں میں نظر آتی ہے۔

انہوں نے مغربی ممالک کے انسانی حقوق کے دعوؤں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ امریکا خود کو جمہوریت کا علمبردار کہتا ہے، لیکن وہاں نہ مکمل جمہوریت موجود ہے اور نہ انسانی حقوق کا حقیقی احترام کیا جاتا ہے۔

لوکاشینکو نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ امریکا نے اسرائیل کے کہنے پر ایک خودمختار ملک میں اسکول پر حملہ کیا، جس کے نتیجے میں جانی نقصان ہوا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ بیان عالمی طاقتوں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور جغرافیائی سیاسی مقابلے کی عکاسی کرتا ہے، جس میں امریکا، چین اور دیگر بڑی طاقتیں مسلسل تناؤ کا شکار ہیں۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے