United Nations Interim Force in Lebanon کے اہلکاروں نے جنوبی Lebanon کے گاؤں Dibil میں حضرت عیسیٰؑ کے مجسمے کی جگہ نیا مجسمہ نصب کر دیا ہے، جو مبینہ طور پر ایک اسرائیلی فوجی کی جانب سے توڑ دیا گیا تھا۔
رپورٹس کے مطابق اقوام متحدہ کے امن مشن میں شامل اطالوی دستے نے اس مجسمے کو عطیہ کیا، جسے مقامی آبادی کے لیے اہم مذہبی علامت سمجھا جاتا ہے۔ لبنانی میڈیا کی جانب سے جاری تصاویر میں دکھایا گیا ہے کہ نیا مجسمہ اصل کے زیادہ قریب ہے اور اس کی ساخت پہلے سے بہتر مماثلت رکھتی ہے۔
دوسری جانب Israel Defense Forces نے بھی واقعے کے بعد ایک متبادل مجسمہ فراہم کیا تھا، تاہم وہ سائز میں چھوٹا اور شکل میں مختلف بتایا گیا۔
مقامی ذرائع کے مطابق اس اقدام کو علاقے میں کشیدگی کم کرنے اور مذہبی احترام کے اظہار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جبکہ یہ واقعہ خطے میں جاری تنازع کے تناظر میں خاص اہمیت اختیار کر گیا ہے۔
