واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کے میڈیا عشائیے کے دوران فائرنگ کے واقعے کے بعد امریکی حکام نے حملہ آور کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا عندیہ دے دیا ہے، جبکہ واقعے کی تحقیقات تیزی سے آگے بڑھ رہی ہیں۔
امریکی قائم مقام اٹارنی جنرل ٹوڈ بلانچ نے کہا ہے کہ ملزم کے خلاف جلد ہی باضابطہ الزامات عائد کیے جائیں گے اور واقعے کی نوعیت کو مدنظر رکھتے ہوئے مقدمے کی سنگینی واضح ہو جائے گی۔ ان کے مطابق تحقیقات ابھی ابتدائی مراحل میں ہیں مگر شواہد تیزی سے اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔
وفاقی پراسیکیوٹرز کے مطابق مشتبہ شخص کو پیر کے روز امریکی دارالحکومت کی عدالت میں پیش کیا جائے گا، جہاں اسے جینین پیرو کی جانب سے عائد کردہ الزامات کا سامنا کرنا ہوگا۔ ان الزامات میں تشدد کے دوران آتشیں اسلحہ استعمال کرنا اور ایک وفاقی اہلکار پر خطرناک ہتھیار سے حملہ کرنا شامل ہیں۔
ادھر فیڈرل بیورو آف انویسٹیگیشن کے ڈائریکٹر کاش پٹیل نے بتایا کہ جائے وقوعہ سے برآمد ہونے والے اسلحے، بشمول ایک لمبی بندوق اور گولیوں کے خول، کا تفصیلی فرانزک تجزیہ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے عینی شاہدین سے بھی معلومات حاصل کرنے کی اپیل کی ہے تاکہ واقعے کے تمام پہلوؤں کو واضح کیا جا سکے۔
واشنگٹن ڈی سی کے عبوری پولیس سربراہ جیفری کیرول کے مطابق حملہ آور کے پاس شاٹ گن، ہینڈگن اور متعدد چاقو موجود تھے، تاہم ابتدائی تحقیقات میں اس بات کے شواہد نہیں ملے کہ اس واقعے میں کوئی اور فرد ملوث تھا۔
یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ڈونلڈ ٹرمپ کی موجودگی میں ایک اہم میڈیا تقریب جاری تھی۔ سیکیورٹی اداروں کی بروقت کارروائی کے باعث ایک بڑے سانحے کو ٹال دیا گیا، جبکہ حکام کا کہنا ہے کہ مکمل تحقیقات کے بعد مزید تفصیلات سامنے لائی جائیں گی۔
