ایران نے سنی عسکریت پسند تنظیم جیش العدل سے مبینہ وابستگی اور سیکیورٹی فورسز پر حملوں میں ملوث ہونے کے الزام میں ایک شخص کو پھانسی دے دی ہے۔
نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق، حکام نے سزائے موت پانے والے شخص کی شناخت عامر رمیش کے نام سے کی ہے۔ اسے جنوب مشرقی ایران میں انسداد دہشت گردی کارروائی کے دوران گرفتار کیا گیا تھا۔
ایرانی حکام کے مطابق ملزم پر “مسلح بغاوت” کا الزام تھا، اور وہ فوجی اہلکاروں کو نشانہ بنانے والے بم دھماکوں اور گھات لگا کر حملوں میں ملوث رہا۔ عدالت نے شواہد کی بنیاد پر اسے سزائے موت سنائی، جس پر عملدرآمد کر دیا گیا۔
جیش العدل ایک شدت پسند سنی تنظیم ہے جو ایران کے پسماندہ صوبے سیستان و بلوچستان میں سرگرم رہی ہے۔ یہ گروپ ماضی میں ایرانی سیکیورٹی فورسز پر متعدد حملوں کی ذمہ داری قبول کر چکا ہے۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ملک میں دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی اور ریاستی سلامتی کو درپیش خطرات کا سختی سے مقابلہ کیا جائے گا۔
