امریکی ایوانِ نمائندگان نے محکمہ داخلی سلامتی کی فنڈنگ کا بل منظور کر لیا ہے، جس کے بعد 11 ہفتوں سے جاری جزوی حکومتی تعطل ختم ہو گیا۔ بعد ازاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی بل پر دستخط کر دیے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ بل پہلے ہی امریکی سینیٹ سے منظور ہو چکا تھا، تاہم اس میں امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ اور کسٹمز اینڈ بارڈر پروٹیکشن کو شامل نہیں کیا گیا، کیونکہ ان اداروں کے لیے پہلے سے فنڈنگ موجود تھی۔
تعطل کے دوران محکمہ کے کئی شعبے شدید مالی دباؤ کا شکار رہے، جبکہ ہوائی اڈوں پر طویل قطاریں دیکھنے میں آئیں اور متعدد اہلکار بغیر تنخواہ کے کام کرنے پر مجبور رہے۔ اس کے علاوہ قدرتی آفات سے نمٹنے والے اداروں کی کارکردگی متاثر ہونے کے خدشات بھی بڑھ گئے تھے۔
ابتدائی طور پر ریپبلکن اسپیکر مائیک جانسن نے اس بل کی مخالفت کی تھی، تاہم بعد میں صدر ٹرمپ کی حمایت کے بعد اسے ووٹنگ کے لیے پیش کیا گیا۔
محکمہ کے سربراہ مارک وین ملن نے بل کی منظوری کا خیرمقدم کرتے ہوئے تعطل کا ذمہ دار ڈیموکریٹس کو قرار دیا، جبکہ ڈیموکریٹ رہنما زوئی لوفگرین نے کہا کہ اب ضروری ہے کہ امیگریشن اداروں کو قانون کے مطابق جوابدہ بنایا جائے۔
واضح رہے کہ یہ تعطل بنیادی طور پر امیگریشن پالیسیوں پر اختلافات کے باعث شروع ہوا تھا، جہاں ڈیموکریٹس نے اصلاحات کے بغیر فنڈنگ کی مخالفت کی تھی۔
