مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور ایران کے ساتھ تنازع نے خطے کے روایتی اتحادوں کو نئی شکل دینا شروع کر دی ہے، جس کے نتیجے میں اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے درمیان تعلقات میں نمایاں قربت دیکھی جا رہی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق حالیہ جنگی صورتحال کے دوران جب امارات کو سیکیورٹی خدشات کا سامنا ہوا تو اسرائیل نے حساس دفاعی تعاون کی پیشکش کی، جسے دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک غیر معمولی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ پیش رفت ابراہیم معاہدہ کے بعد تعلقات میں آنے والی بہتری کا تسلسل سمجھی جا رہی ہے، جس کے تحت امارات اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے والا اہم عرب ملک بنا تھا۔
ذرائع کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان دفاعی اور انٹیلی جنس تعاون میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ قیادت کی سطح پر بھی رابطے مضبوط ہوئے ہیں۔ بعض رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سیکیورٹی تعاون کے تحت جدید دفاعی نظاموں کی تعیناتی جیسے اقدامات پر بھی غور کیا گیا یا عمل ہوا، تاہم ان تفصیلات کی باضابطہ تصدیق محدود ہے۔
اماراتی حکام نے حالیہ بیانات میں خطے میں بدلتے اتحادوں کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران سے متعلق سیکیورٹی خدشات کے باعث علاقائی پالیسیوں میں تبدیلی ناگزیر ہو رہی ہے۔ اس تناظر میں امارات نے بعض روایتی عرب شراکت داروں کے مؤقف پر بھی مایوسی کا اظہار کیا ہے۔
دوسری جانب ماہرین کے مطابق یہ صورتحال خلیجی ممالک کے اندر پالیسی تقسیم کو بھی ظاہر کرتی ہے، جہاں کچھ ریاستیں محتاط سفارت کاری کو ترجیح دے رہی ہیں جبکہ دیگر ممالک سیکیورٹی تعاون کو وسعت دے رہے ہیں۔
