ملک میں مہنگائی وزارت خزانہ کے تخمینے سے بھی زیادہ ہو گئی، اپریل 2026 میں مہنگائی میں 2.48 فیصد کا بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، شہری علاقوں میں مہنگائی 2.75 فیصد، دیہی علاقوں میں 2.09 فیصد کا اضافہ دیکھنے میں آیا، سالانہ بنیاد پر اپریل میں مہنگائی کی شرح ڈبل ڈیجٹ 10.89 فیصد تک پہنچ گئی، حکومت نے اپریل میں مہنگائی 8 سے 9 فیصد رہنے کا تخمینہ لگایا تھا، جولائی تا اپریل مہنگائی کی اوسط شرح 6.19 فیصد رہی۔
ادارہ شماریات نے مہنگائی سے متعلق رپورٹ جاری کر دی ہے جس میں کہا گیاہے کہ سالانہ بنیاد پر ٹرانسپورٹ کرائے 30 فیصد تک بڑھ گئے، ایک سال میں خوراک کی قیمتوں میں 7.63 فیصد تک اضافہ ہوا ہے ۔رپورٹ کے مطابق جلد خراب ہونے والی کھانے پینے کی اشیاء 10.20 فیصد ، ایک سال میں ہاؤسنگ، پانی، بجلی اور گیس 16.84 فیصد ، کپڑے اور جوتے سالانہ بنیاد پر 6.20 فیصد مہنگے ہوگئے ہیں۔سالانہ بنیاد پر ہوٹل ریسٹورنٹ چارجز میں 5.28 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے ۔
ادارہ شماریات کا رپورٹ میں کہناتھا کہ مہنگائی کی سالانہ شرح 21 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، اپریل میں ٹماٹر کی قیمت میں 57 فیصد سے زیادہ ، سبزیوں کی قیمتیں 40 فیصد تک بڑھ گئیں، انڈے 14 فیصد، پیاز 9 فیصد اور آلو 4 فیصد مہنگے ہوئے، دودھ اور دودھ سے بنی اشیاء کی قیمتوں میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا،چکن اور گوشت کی قیمتوں میں معمولی اضافہ ہوا، چاول، دال ماش اوربیکری آئٹمزبھی مہنگے ہو گئے۔
گندم کی قیمت میں 9 فیصد کمی ہوئی، آٹے کی قیمت میں تقریباً 5 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، مچھلی، تازہ پھل اور چینی سستی ہو ہوئی ،بیسن، دالیں اورکوکنگ آئل کی قیمتوں میں معمولی کمی دیکھنے میں آئی۔ایل پی جی کی قیمت میں 38 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا،ٹرانسپورٹ سروسز 27 فیصد اور پیٹرولیم مصنوعات 18 فیصد مہنگی ہوئی، کرایوں اور تعمیراتی سامان کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا، مختلف ذاتی استعمال کی اشیاء اور قالین سستے ہو گئے۔
