Donald Trump نے ایک متنازع بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ Iran کی اعلیٰ قیادت اور دفاعی صلاحیتوں کو شدید نقصان پہنچایا گیا ہے، تاہم ان کے اس دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق سامنے نہیں آئی۔
سوشل میڈیا پر جاری اپنے پیغام میں ٹرمپ نے کہا کہ امریکا کی بحریہ، فضائیہ اور میزائل دفاعی نظام “سو فیصد فعال” ہیں، جبکہ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایران کی نیوی، ایئرفورس اور ایئر ڈیفنس کو مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ انہوں نے ایک گرافک تصویر بھی شیئر کی جس میں امریکا کی برتری اور ایران کی تباہی کو ظاہر کیا گیا۔
ٹرمپ کے بیان میں ایرانی سپریم لیڈر سے متعلق انتہائی سنگین دعویٰ بھی شامل ہے، تاہم اس حوالے سے نہ تو United States کے سرکاری اداروں اور نہ ہی Iran کی جانب سے کسی تصدیق یا باضابطہ ردعمل کی اطلاع موصول ہوئی ہے۔
دفاعی و سفارتی ماہرین کے مطابق اس نوعیت کے دعوے عام طور پر معلوماتی جنگ (information warfare) یا نفسیاتی دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی کا حصہ بھی ہو سکتے ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب خطے میں کشیدگی عروج پر ہو۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر یہ دعوے درست ہوتے تو اس کے فوری اور بڑے جغرافیائی و عسکری اثرات سامنے آتے، جن میں عالمی سطح پر ردعمل، ہنگامی سفارتی سرگرمیاں اور ممکنہ فوجی کشیدگی میں اضافہ شامل ہوتا۔ تاہم موجودہ صورتحال میں ایسی کسی بڑی پیش رفت کی تصدیق نہ ہونے کے باعث احتیاط کے ساتھ ان بیانات کو دیکھا جا رہا ہے۔

