اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل میں خلیج فارس کی بحری سلامتی سے متعلق اجلاس کے دوران روس نے ایران کے خلاف امریکا کی مجوزہ قرارداد کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔
روسی مستقل مندوب ویسلی نیبینزیا نے اپنے خطاب میں کہا کہ ماسکو ایسی کسی قرارداد کی حمایت نہیں کرے گا جو صرف Iran کو ہدف بنائے اور خطے میں جاری بحران کی اصل وجوہات کو نظر انداز کرے۔ ان کے مطابق یک طرفہ مؤقف اپنانا خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ روس ان تمام کوششوں کو رد کرتا ہے جن کے ذریعے ایران کے خلاف یک طرفہ بیانیہ مسلط کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک بحران کی بنیادی وجوہات اور محرکات کو سامنے نہیں رکھا جاتا، کسی بھی قرارداد کو غیر متوازن تصور کیا جائے گا۔
روسی مندوب نے خبردار کیا کہ متنازع اور جانبدار قراردادوں کی منظوری مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کی نئی لہر کو جنم دے سکتی ہے، جس کے نتائج پورے خطے کے لیے خطرناک ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ خلیج فارس میں بحری سلامتی کا مسئلہ صرف مذمت یا دباؤ سے حل نہیں ہو سکتا بلکہ اس کے لیے جنگی کارروائیوں میں کمی اور جاری تنازعات کا سیاسی حل ضروری ہے۔
روس نے تمام رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو خطے میں تصادم کو بڑھا سکتے ہیں اور ذمہ دارانہ سفارتی رویہ اختیار کریں۔
یاد رہے کہ امریکا نے بعض خلیجی ممالک کی حمایت سے یہ قرارداد پیش کی تھی جس میں ایران سے آبنائے ہرمز میں مبینہ حملے روکنے اور رکاوٹیں ختم کرنے کا مطالبہ شامل تھا۔
