برطانیہ کے وزیرِ اعظم Keir Starmer نے قیادت سے دستبردار ہونے کے مطالبات مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ اپنے عہدے پر برقرار رہیں گے، جبکہ حکومت کے اندر بڑھتے ہوئے دباؤ کے باوجود کابینہ اور وزارتی معاونین کی نئی تقرریاں بھی کر دی گئی ہیں۔
برطانوی میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیراعظم اسٹارمر نے حالیہ سیاسی بحران اور لیبر پارٹی کے اندر اختلافات کے باوجود استعفیٰ دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ملک کو اس وقت “امید اور استحکام” کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حالیہ انتخابات کے نتائج مشکل ضرور تھے، تاہم وہ اپنی ذمہ داریوں سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
حکومت کی جانب سے کئی پارلیمانی پرائیویٹ سیکریٹریز (PPS) کے استعفوں کے بعد نئی تقرریوں کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق ڈیوڈ برٹن سیمپسن کو محکمۂ صحت و سماجی نگہداشت کا معاون مقرر کیا گیا ہے جبکہ لنزی فارن ورتھ کو وزارتِ انصاف میں ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں۔ اسی طرح جین کرکہم کو محکمۂ ماحولیات میں معاونت کا عہدہ دیا گیا ہے۔
مزید برآں، مائیکل پین کو وزارتِ داخلہ اور ٹم روکا کو محکمۂ محنت کا معاون مقرر کیا گیا ہے، جبکہ رکن پارلیمنٹ شان ووڈکاک کو کابینہ معاون کے طور پر تعینات کیا گیا ہے۔
اس سے قبل برطانوی نائب وزیر اعظم David Lammy اور وزیر داخلہ Shabana Mahmood سمیت متعدد اہم شخصیات نے اسٹارمر پر زور دیا تھا کہ وہ اقتدار کی منتقلی کے لیے واضح ٹائم لائن دیں۔ برطانوی میڈیا کے مطابق لیبر پارٹی کے 70 سے زائد اراکین بھی قیادت میں تبدیلی کے حق میں سامنے آ چکے ہیں۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ لیبر پارٹی کے اندر بڑھتی ہوئی بے چینی اور حالیہ استعفوں نے وزیراعظم اسٹارمر کی سیاسی پوزیشن کو مزید دباؤ میں ڈال دیا ہے، تاہم نئی تقرریوں کے ذریعے حکومت نے استحکام کا تاثر دینے کی کوشش کی ہے۔
