انمول عرف پنکی کی بغیر ہتھکڑی عدالت پیشی پر بڑا ایکشن، 3 افسر معطل

کراچی پولیس چیف نے گارڈن پولیس سٹیشن کے 3 افسران کو معطل کر دیا، ایس ایچ او گارڈن حنیف سیال، انویسٹی گیشن آفیسر سب انسپکٹر سعید احمد معطل ہونے والوں میں شامل ہیں۔

سینئر انویسٹی گیشن آفیسر انسپکٹر ظفر اقبال تھانہ گارڈن بھی معطل ہو گئے، ایس ایس پی ساؤتھ کو انکوائری افسر مقرر کر دیا گیا، اس سلسلہ میں نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا۔

یاد رہے کہ منشیات فروش انمول عرف پنکی کو آج صبح گرفتار کیا گیا تھا اور اس نے دوران حراست کہا تھا کہ وہ جلد رہا ہو جائیں گی، آج پنکی کو شعبہ تفتیش پولیس کی جانب سے پروٹوکول میں سٹی کورٹ میں پیش کر دیا گیا۔

منشیات فروش پنکی پیشی کے موقع پر آگے آگے چلتی رہی، جب کہ تفتیشی افسر پیچھے پیچھے چلتا رہا، تفیشی افسر انمول پنکی کو راستہ بھی دکھاتا رہا۔

عدالت پیشی کے موقع پر نہ تو ایس او پیز کے مطابق پولیس سیکیورٹی موجود تھی نہ اسے ہتھکڑی لگائی گئی، پنکی نے اپنے وکیل سے موبائل فون لے کر بات بھی کی، اور کورٹ میں موجود افراد سے ہنسی مذاق بھی کی۔

پولیس نے عدالت سے پنکی کا 14 روز کا ریمانڈ طلب کیا گیا تھا تاہم وہ ریمانڈ کے حصول میں ناکام ہو گئی ہے اور عدالت نے انمول پنکی کی ابتدائی کسٹڈی دی ہے۔ انمول پنکی پر پولیس نے دو مقدمات درج کیے ہیں۔

منشیات فروش پنکی پر اربوں روپے کی کوکین پاکستان بھر میں بیچنے کا الزام ہے، پولیس کی جانب سے پنکی کو پاکستان کی سب سے بڑی کوکین ڈیلر ہی نہیں بلکہ میکر بھی قرار دیا جا رہا ہے تاہم دوسری طرف یہ بڑا تضاد سامنے آیا ہے کہ اتنے بڑے ملزم کو بغیر ہتھکڑی عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں وہ مکمل اعتماد کے ساتھ چلتی دکھائی دی۔

ذرائع نے کہا ہے کہ انمول پنکی نے حراست کے دوران بھی کہا تھا کہ میں جلد رہا ہو جاؤں گی، اس صورت حال سے پولیس کے انتہائی حساس سطح کے ملزمان کے ساتھ لاپرواہی کے رویے کی عکاسی ہوتی ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے