ٹرمپ چین پہنچ گئے، شی جن پنگ سے اہم ملاقاتیں آج شروع ہوں گی

Trump arrives in China, important meetings with Xi Jinping will begin today

Image

Image

 

 

 

 

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اہم سرکاری دورے پر چین پہنچ گئے ہیں جہاں وہ چینی صدر Xi Jinping کے ساتھ دو روزہ سربراہی اجلاس میں شرکت کریں گے۔ اس دورے کو امریکا اور چین کے درمیان کشیدہ تعلقات، تجارتی تنازعات اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال کے تناظر میں انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے Reuters کے مطابق صدر ٹرمپ کے ہمراہ ایک اعلیٰ سطحی امریکی وفد بھی بیجنگ پہنچا، جس میں Jensen Huang، Elon Musk، امریکی وزیر خارجہ Marco Rubio اور دیگر اہم شخصیات شامل ہیں۔

بیجنگ ایئرپورٹ پر صدر ٹرمپ کا شاندار استقبال کیا گیا جہاں چینی حکام، فوجی اعزازی دستے اور طلبہ نے امریکی اور چینی پرچم لہرا کر مہمان وفد کا خیر مقدم کیا۔ چینی طلبہ کی جانب سے مینڈارن زبان میں خیر مقدمی نعرے بھی لگائے گئے جبکہ صدر ٹرمپ نے ایئر فورس ون سے اترنے کے بعد حاضرین کی جانب ہاتھ ہلا کر اظہارِ تشکر کیا۔

رپورٹس کے مطابق اس دورے میں تجارت، مصنوعی ذہانت، عالمی معیشت، ایران جنگ، آبنائے ہرمز کی صورتحال اور خطے کی سکیورٹی جیسے اہم معاملات زیر بحث آئیں گے۔ امریکی صدر کی کوشش ہوگی کہ چین کے ساتھ جاری کمزور تجارتی جنگ بندی کو برقرار رکھا جائے اور امریکی کمپنیوں کے لیے چینی مارکیٹ تک مزید رسائی حاصل کی جائے۔

صدر ٹرمپ نے روانگی سے قبل اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر کہا کہ وہ صدر شی جن پنگ سے کہیں گے کہ چین امریکی کاروبار کے لیے مزید “کھل جائے” تاکہ امریکی کمپنیاں وہاں بہتر انداز میں سرمایہ کاری اور کاروبار کرسکیں۔ انہوں نے خاص طور پر NVIDIA جیسی کمپنیوں کا ذکر کیا جو جدید مصنوعی ذہانت کے چپس چین میں فروخت کرنے کے لیے ریگولیٹری منظوری کی منتظر ہیں۔

چینی وزارت خارجہ کے ترجمان Guo Jiakun نے صدر ٹرمپ کے دورے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ بیجنگ امریکا کے ساتھ “برابری، باہمی احترام اور مشترکہ مفادات” کی بنیاد پر تعلقات کو فروغ دینا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک عالمی استحکام اور اقتصادی تعاون کے لیے مل کر کام کرنے پر تیار ہیں۔

دوسری جانب امریکی تجارتی مذاکرات کار Scott Bessent نے جنوبی کوریا میں چینی حکام کے ساتھ ابتدائی مذاکرات کیے جنہیں چینی سرکاری میڈیا نے “تعمیری اور گہرے” مذاکرات قرار دیا، تاہم کسی بڑے معاہدے کا اعلان نہیں کیا گیا۔

ماہرین کے مطابق ٹرمپ اور شی جن پنگ کی ملاقاتیں نہ صرف امریکا اور چین کے مستقبل کے تعلقات بلکہ مشرق وسطیٰ، عالمی تجارت اور توانائی کے بحران پر بھی اثر انداز ہوسکتی ہیں، خصوصاً ایسے وقت میں جب ایران جنگ اور آبنائے ہرمز کی صورتحال عالمی معیشت کے لیے بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے۔

SEO ٹیگز:

#Trump #DonaldTrump #China #XiJinping #USChinaRelations #Beijing #Nvidia #ElonMusk #MarcoRubio #TradeWar #ArtificialIntelligence #MiddleEastCrisis #IranWar #GlobalEconomy #BreakingNews #WorldNews #Reuters #امریکا #چین #ڈونلڈ_ٹرمپ #شی_جن_پنگ #بیجنگ #عالمی_خبریں #تازہ_خبر #ایران_جنگ #تجارتی_جنگ

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے