یمنی حکومت اور حوثیوں کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کا بڑا معاہدہ، مرحلہ وار عمل درآمد ہوگا

یمنی حکومت اور حوثیوں کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کا بڑا معاہدہ، مرحلہ وار عمل درآمد ہوگا

Yemen کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت اور Houthis کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کا ایک بڑا معاہدہ طے پا گیا ہے، جسے یمنی تنازع کے دوران اب تک کا سب سے بڑا قیدی تبادلہ قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ پیش رفت Amman میں ہونے والے مذاکرات کے دوران سامنے آئی جہاں دونوں فریقین نے تقریباً 1728 قیدیوں اور زیر حراست افراد کی رہائی پر اتفاق کیا۔

یمنی حکومتی وفد کے سربراہ Yahya Mohammed Kazman نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ یہ معاہدہ ہزاروں یمنی خاندانوں کی مشکلات کم کرنے کی جانب ایک اہم انسانی قدم ہے۔

بیان کے مطابق معاہدے میں فوج، سکیورٹی فورسز، مختلف عسکری گروپوں، عوامی مزاحمت سے وابستہ افراد، سیاست دانوں اور میڈیا کارکنوں کی رہائی بھی شامل ہے، جنہوں نے حوثی حراستی مراکز میں کئی برس گزارے۔

حکومتی بیان میں کہا گیا کہ یہ معاہدہ گزشتہ دسمبر میں Muscat میں ہونے والی مفاہمتوں کا تسلسل ہے، جن کے تحت مرحلہ وار قیدیوں کی رہائی، حراستی مراکز کا معائنہ اور لاپتہ افراد و لاشوں کی شناخت کا عمل مکمل کیا جائے گا۔

معاہدے کے تحت International Committee of the Red Cross کی نگرانی میں مشترکہ کمیٹیاں تشکیل دی جائیں گی، جو مختلف علاقوں کا دورہ کرکے قیدیوں کی فہرستوں اور انسانی بنیادوں پر دیگر معاملات کا جائزہ لیں گی۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے