امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین کے دورے سے واپسی پر ایک صحافی کے سوال پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ’’تمہارے جیسے صحافی پر بغاوت کا مقدمہ ہونا چاہیے۔‘‘
امریکی صدر نے یہ بیان اس وقت دیا جب وہ بیجنگ سے واپسی کے دوران طیارے میں میڈیا نمائندوں سے گفتگو کر رہے تھے۔ ایک صحافی نے ایران سے متعلق امریکی پالیسی اور حالیہ فوجی کارروائیوں پر سوال اٹھایا، جس پر ٹرمپ ناراض ہو گئے۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا نے ایران کو ’’ناقابلِ یقین حد تک نشانہ بنایا‘‘ اور وہاں بڑی کامیابی حاصل کی، لیکن بعض صحافی عسکری کارروائی کو ناکامی قرار دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔
انہوں نے صحافی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ایسے بیانات قومی مفادات کے خلاف ہیں اور ’’تمہارے جیسے صحافی پر بغاوت کا مقدمہ ہونا چاہیے۔‘‘
یہ پہلا موقع نہیں کہ ٹرمپ نے میڈیا پر سخت تنقید کی ہو۔ دوسری مدتِ صدارت سنبھالنے کے بعد وہ متعدد بار امریکی میڈیا اداروں اور صحافیوں کو تنقید کا نشانہ بنا چکے ہیں۔
حال ہی میں امریکی صدر نے بعض میڈیا اداروں کو ’’ملک دشمن‘‘ اور ’’غدار‘‘ قرار دیتے ہوئے الزام لگایا تھا کہ وہ امریکا کی کامیابیوں کو جان بوجھ کر منفی انداز میں پیش کرتے ہیں۔
