فرانس نے آبنائے ہرمز میں بڑھتی کشیدگی اور عالمی جہاز رانی کو لاحق خطرات کے پیشِ نظر اپنے طیارہ بردار بحری جہاز Charles de Gaulle کو بحیرہ عرب میں تعینات کر دیا ہے، جہاں وہ ممکنہ غیر جانبدار بحری مشن کی تیاری کرے گا۔
فرانسیسی وزیر دفاع Alice Ruffo نے ایک انٹرویو میں تصدیق کی کہ شارل ڈیگول اور اس کے ہمراہ جنگی بحری جہاز نہر سویز عبور کرنے کے بعد بحیرہ عرب پہنچ چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ فرانسیسی بحری بیڑا اس وقت آبنائے ہرمز میں داخل نہیں ہوا تاہم خطے کی صورتحال پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔
وزیر دفاع کے مطابق فرانس شروع سے اس مؤقف کا حامی رہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی بحال ہونی چاہیے، تاہم یہ عمل جارحانہ انداز کے بجائے دفاعی اور بین الاقوامی قانون کے دائرے میں رہ کر کیا جائے گا۔
فرانسیسی حکام کا کہنا ہے کہ خطے میں طیارہ بردار بحری جہاز کی موجودگی سے نہ صرف سیکیورٹی صورتحال کا جائزہ لینے میں مدد ملے گی بلکہ علاقائی اور عالمی سفارتی توازن پر بھی اثر پڑے گا۔
رپورٹس کے مطابق فرانس اور United Kingdom گزشتہ ماہ آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی کے تحفظ کے لیے مشترکہ فوجی منصوبہ تیار کرنے پر متفق ہوئے تھے۔ اس ممکنہ کثیر ملکی مشن میں تقریباً 40 ممالک کی شمولیت کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
ذرائع کے مطابق یہ مشن اس وقت فعال کیا جا سکتا ہے جب Iran اور United States آبنائے ہرمز پر عائد رکاوٹوں اور کشیدگی میں کمی پر رضامند ہو جائیں۔
