غزہ میں اسرائیلی فضائی حملوں کے نتیجے میں کم از کم سات فلسطینی شہید ہوگئے جبکہ اسرائیلی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ حملے میں حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈ کے سینئر رہنما عزالدین الحداد کو نشانہ بنایا گیا۔ تاہم حماس کی جانب سے ابھی تک اس دعوے کی باضابطہ تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق غزہ شہر کے علاقے رمل میں ایک رہائشی اپارٹمنٹ اور قریب کھڑی ایک گاڑی پر اسرائیلی فضائی حملے کیے گئے۔ طبی ذرائع کے مطابق شہداء میں تین خواتین اور ایک بچہ بھی شامل ہیں جبکہ درجنوں افراد زخمی ہوئے۔
اسرائیلی وزیرِاعظم بنجمن نیتن یاہو اور وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے مشترکہ بیان میں کہا کہ عزالدین الحداد 7 اکتوبر 2023 کے حملوں کے اہم منصوبہ سازوں میں شامل تھے اور اسرائیلی شہریوں و فوجیوں کے قتل اور اغوا کا ذمہ دار تھا۔ اسرائیلی حکام نے یہ واضح نہیں کیا کہ آیا الحداد واقعی حملے میں مارے گئے یا نہیں، تاہم بعض اسرائیلی ذرائع نے بعد ازاں ان کی موت کی تصدیق کا دعویٰ کیا۔
فلسطینی ذرائع کے مطابق عزالدین الحداد القسام بریگیڈ کی اس پانچ رکنی اعلیٰ عسکری کونسل کے آخری زندہ رکن تھے جو محمد الضیف، یحییٰ سنوار اور محمد سنوار کی ہلاکتوں کے بعد تشکیل دی گئی تھی۔
عینی شاہدین کے مطابق حملے کے بعد عمارت میں آگ بھڑک اٹھی جبکہ امدادی کارکنوں نے ملبے سے متعدد زخمیوں اور لاشوں کو نکالا۔ غزہ کی سول ڈیفنس اتھارٹی نے کہا کہ حملے سے قبل کسی قسم کی وارننگ نہیں دی گئی حالانکہ عمارت میں بڑی تعداد میں شہری رہائش پذیر تھے۔
یہ حملہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی اور غزہ کے مستقبل سے متعلق مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔ اسرائیل نے حالیہ ہفتوں میں غزہ پر حملوں میں شدت پیدا کر دی ہے جبکہ حماس اب بھی غزہ کے مختلف علاقوں میں اثر و رسوخ برقرار رکھے ہوئے ہے۔
