سی ایس ایس کے امتحانات میں ہر سال امیدواروں کی بڑے پیمانے پر ناکامی کی اصل وجوہات سامنے آ گئیں۔ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے قومی اسمبلی میں تحریری جواب جمع کرا دیا ، جس میں انکشاف کیا گیا کہ انگریزی زبان پر کمزور گرفت، فکری وسعت کی کمی اور اختیاری مضامین کا غیر موزوں انتخاب نوجوانوں کی ناکامی کی سب سے بڑی وجوہات ہیں۔
قومی اسمبلی میں جمع دستاویزات کے مطابق سی ایس ایس کے امیدوار معیاری مضمون اور جامع خلاصہ یعنی پریسے لکھنے کے مطلوبہ معیار پر پورا نہیں اتر پاتے۔ طلبہ میں اپنے خیالات کو مربوط، منظم اور واضح انداز میں پیش کرنے کی صلاحیت انتہائی کمزور ہے، جبکہ وہ درست اور غلط معلومات میں فرق کرنے میں بھی مشکلات کا شکار رہتے ہیں اور ان کے دلائل میں منطقی ترتیب کے بجائے انتشار نمایاں ہوتا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے مطابق ہر سال تقریباً دو سو نشستوں کے لیے پچیس سے تیس ہزار امیدوار امتحان کا حصہ بنتے ہیں، جس کا مطلب ہے کہ ایک نشست کے لیے اوسطاً ایک سو پچیس سے ایک سو تینتیس امیدواروں کے درمیان سخت مقابلہ ہوتا ہے۔ دستاویز میں تشویش کا اظہار کیا گیا ہے کہ متعدد نوجوان بغیر کسی تیاری، مناسب حکمتِ عملی اور پبلک پالیسی یا قومی امور کی سمجھ بوجھ کے بغیر ہی امتحان میں بیٹھ جاتے ہیں، جو ان کی ناکامی کا سبب بنتا ہے۔
