قومی اسمبلی میں وقفۂ سوالات کے دوران پیش کی گئی سرکاری دستاویزات میں انکشاف ہوا ہے کہ گزشتہ پانچ برسوں کے دوران خلیجی ممالک سے مجموعی طور پر ایک لاکھ 64 ہزار 788 پاکستانی شہریوں کو مختلف وجوہات کی بنیاد پر ملک بدر کیا گیا ہے۔
دستاویزات کے مطابق سب سے زیادہ ملک بدری سعودی عرب سے ہوئی جہاں ایک لاکھ 8 ہزار 29 پاکستانیوں کو واپس بھیجا گیا۔ اسی طرح متحدہ عرب امارات سے 40 ہزار 497 پاکستانیوں کو ملک بدر کیا گیا۔
دیگر خلیجی ممالک میں عمان سے 9 ہزار 814، قطر سے 2 ہزار 971، بحرین سے 2 ہزار 779 جبکہ کویت سے 698 پاکستانی شہریوں کو مختلف عرصوں میں ملک بدر کیا گیا۔
حکومتی دستاویزات میں بتایا گیا ہے کہ ان ملک بدریوں کی وجوہات میں لیبر قوانین کی خلاف ورزی، اقامہ کی مدت پوری ہونا، غیر قانونی ملازمت، اور دیگر امیگریشن مسائل شامل تھے۔
