نیدرلینڈ کی حکومت نے اسرائیل کے زیرِ قبضہ فلسطینی علاقوں میں قائم یہودی آبادیوں سے درآمد ہونے والی اشیاء پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
ڈچ وزیرِ اعظم Rob Jetten نے جمعہ کے روز کہا کہ اس پابندی کا مقصد غیر قانونی اسرائیلی آبادیوں کے ساتھ معاشی سرگرمیوں میں نیدرلینڈز کی شمولیت کو روکنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت اس بات کو یقینی بنانا چاہتی ہے کہ ہالینڈ کسی بھی طرح ایسی اقتصادی سرگرمیوں کا حصہ نہ بنے جو بین الاقوامی قوانین کے مطابق غیر قانونی سمجھی جاتی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق سابق ڈچ حکومت نے گزشتہ برس اس پابندی کی منصوبہ بندی شروع کی تھی جبکہ موجودہ حکومت اب اسے رواں سال کے دوسرے نصف میں نافذ کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔
Israel کی مصنوعات اور سامان خریدنے والے بڑے عالمی خریداروں میں نیدرلینڈز شامل ہے، تاہم حکومت نے یہ واضح نہیں کیا کہ اسرائیلی یہودی آبادیوں سے اس وقت کتنی مالیت کی مصنوعات درآمد کی جاتی ہیں۔
زیادہ تر عالمی طاقتیں اور United Nations فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی یہودی آبادیوں کو بین الاقوامی قوانین کے تحت غیر قانونی قرار دیتے ہیں۔
دوسری جانب اسرائیل اس مؤقف کو مسترد کرتا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ فلسطینی سرزمین سے اس کا تعلق تاریخی اور مذہبی بنیادوں پر قائم ہے۔
یہ فیصلہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب غزہ جنگ اور فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی پالیسیوں کے باعث یورپی ممالک میں اسرائیل کے خلاف تنقید میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
