قطر کی ایک اعلیٰ سطحی مذاکراتی ٹیم ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کم کرنے اور ممکنہ معاہدے کی کوششوں کے سلسلے میں تہران پہنچ گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ وفد واشنگٹن کے ساتھ قریبی رابطے میں ایران کے ساتھ جنگ بندی اور باقی ماندہ تنازعات کے حل کے لیے سرگرم ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ قطری ٹیم امریکا کے ساتھ ہم آہنگی کے تحت تہران پہنچی ہے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان حتمی معاہدے تک رسائی میں مدد دی جا سکے۔ تاہم Ministry of Foreign Affairs of Qatar کی جانب سے فوری طور پر اس پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔
دوسری جانب Donald Trump نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنے بیٹے Donald Trump Jr. کی شادی میں شرکت کے لیے بہاماس نہیں جائیں گے اور حکومتی معاملات کی وجہ سے واشنگٹن میں ہی قیام کریں گے۔
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ اگرچہ وہ اپنے بیٹے اور ہونے والی بہو Bettina Anderson کے ساتھ ہونا چاہتے تھے، لیکن ایران سمیت اہم حکومتی معاملات کے باعث ان کے لیے وائٹ ہاؤس میں موجود رہنا ضروری ہے۔
رپورٹس کے مطابق بہاماس میں ہونے والی یہ شادی ایک نجی تقریب ہوگی، تاہم ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں اعتراف کیا کہ ایران کی صورتحال ان کی ترجیحات میں سرفہرست ہے۔
Pakistan اس وقت امریکا اور ایران کے درمیان بنیادی ثالثی کردار ادا کر رہا ہے، جبکہ قطر کی دوبارہ شمولیت خطے میں اس کے سفارتی اثر و رسوخ اور تہران و واشنگٹن کے درمیان رابطہ کار کے طور پر اس کے کردار کی عکاسی کرتی ہے۔
امریکی وزیر خارجہ Marco Rubio نے سویڈن میں نیٹو وزرائے خارجہ اجلاس کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مذاکرات میں کچھ پیش رفت ضرور ہوئی ہے، تاہم ابھی مزید کام باقی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اس تمام عمل میں “قابلِ تعریف کردار” ادا کر رہا ہے اور امریکا بنیادی طور پر اسی کے ذریعے ایران سے رابطے میں ہے۔
ادھر ایرانی میڈیا کے مطابق Abbas Araghchi نے اپنے پاکستانی ہم منصب سے ملاقات میں جنگ بندی، آبنائے ہرمز اور یورینیم افزودگی سے متعلق تجاویز پر تبادلہ خیال کیا۔
واضح رہے کہ 28 فروری کو ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد شروع ہونے والی جنگ کے باوجود ایک غیر مستحکم جنگ بندی برقرار ہے، جبکہ آبنائے ہرمز، ایرانی یورینیم پروگرام اور اقتصادی پابندیاں اب بھی مذاکرات کے اہم نکات ہیں۔
