ترمیمی بل کے تحت اب نجی شعبے سے بھی ڈی جی پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی تعینات کیے جا سکیں گے، بل میں ڈی جی پی اے اے کی مدتِ ملازمت 3 سال مقرر کی گئی ہے، جبکہ وزیراعظم کو مزید 2 سال کی توسیع دینے کا اختیار بھی حاصل ہوگا۔
بل کے مطابق پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی کے بورڈ میں دفاعی ڈویژن کے نمائندے کو شامل کرنے کی منظوری بھی دی گئی ہے، اس کے علاوہ ہنگامی صورتحال میں بورڈ اجلاس بلائے بغیر سرکولیشن کے ذریعے فیصلے کرنے کی اجازت بھی شامل کی گئی ہے۔
ترمیمی بل میں مفادات کے ٹکراؤ سے بچاؤ کے لیے نئی شق شامل کرتے ہوئے پی اے اے افسران کو اپنے عہدے کے دوران کسی ایوی ایشن کمپنی میں مالی مفاد رکھنے سے روک دیا گیا ہے۔
قانون کے تحت پی اے اے افسران پر ریٹائرمنٹ کے بعد بھی دو سال تک کاروباری پابندیاں عائد رہیں گی تاکہ حساس معلومات کے غلط استعمال اور مفادات کے تصادم سے بچا جا سکے۔
بل میں یہ ترمیم بھی منظور کی گئی کہ اتھارٹی کے اہم فیصلے اب سرکاری گزٹ کے بجائے ویب سائٹ پر بھی جاری کیے جا سکیں گے۔
ترمیمی بل کے تحت پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی کے انتظامی اور مالی اختیارات میں متعدد تبدیلیاں کی گئی ہیں، جبکہ ایگزیکٹو کمیٹی کے ڈھانچے میں بھی اہم اصلاحات کی منظوری دی گئی ہے۔
