معروف بھارتی موسیقار اور گلوکار اے آر رحمان نے ذکرِ الٰہی، درود و سلام اور صوفیانہ عقائد کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بعض مقدس ناموں میں غیر معمولی روحانی طاقت اور برکت پائی جاتی ہے۔
حال ہی میں ایک پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے اے آر رحمٰن نے مذہب، روحانیت اور ذکر کے موضوع پر تفصیل سے بات کی۔ انہوں نے کہا کہ صوفیانہ تعلیمات کے مطابق جب مسلمان حضرت محمد ﷺ پر درود و سلام بھیجتے ہیں تو اس عمل سے روحانی برکتیں حاصل ہوتی ہیں۔
اے آر رحمٰن کے مطابق صوفیاء کا عقیدہ ہے کہ درود و سلام کی محافل میں صرف انسان ہی نہیں بلکہ آسمانی مخلوقات بھی شریک ہوتی ہیں، جس سے ان لمحات کی روحانی تاثیر مزید بڑھ جاتی ہے۔
انہوں نے ذکر اور موسیقی کے تعلق پر بات کرتے ہوئے کہا کہ صوفیانہ کلام یا روحانی اشعار کی ادائیگی کے دوران انسان اپنے اردگرد ایک خاص روحانی کیفیت اور مثبت توانائی محسوس کر سکتا ہے۔ ان کے بقول ایسے لمحات انسان کے باطن پر گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں اور کئی مثبت تبدیلیوں کا باعث بن سکتے ہیں۔
گلوکار نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ دنیا میں بعض مقامات کو لوگ خاص طور پر مبارک یا خوش قسمت کیوں سمجھتے ہیں۔ اس کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ممکن ہے ان مقامات کا تعلق وہاں کیے جانے والے ذکر، عبادت یا روحانی اعمال سے ہو، یا پھر ایسی حقیقتوں سے جو عام انسانی فہم سے ماورا ہیں۔
اے آر رحمٰن نے کہا کہ لوگ اکثر کسی مخصوص گھر، شہر یا مقام کو اپنی خوش قسمتی کی وجہ قرار دیتے ہیں اور اس کے پیچھے بعض اوقات ایسی روحانی وجوہات بھی ہو سکتی ہیں جنہیں انسان مکمل طور پر سمجھ نہیں پاتا۔
انہوں نے مزید کہا کہ مقدس ناموں کا ورد یا انہیں موسیقی اور نعتیہ کلام کے ذریعے ادا کرنا محض آوازوں کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک گہرا روحانی اور قلبی تجربہ بھی ہو سکتا ہے۔
