مشرق وسطیٰ کشیدگی کے خاتمے کیلئے پاکستان کی کوششیں جاری ہیں، ترجمان دفتر خارجہ

ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ کشیدگی کے خاتمے کیلئے پاکستان کی کوششیں جاری ہیں، وزیراعظم شہباز شریف سے ایرانی صدر کا بھی رابطہ ہوا۔

اسلام آباد میں ہفتہ وار بریفنگ کے دوران طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ گزشتہ 2ہفتے میں سفارتی سطح پر بہت مصروفیات رہیں، پاکستان خطے میں قیام امن کیلئے بہترین اور مخلصانہ کردار ادا کررہاہے۔

ترجمان نے کہا کہ وزیراعظم  نے چین کا سرکاری دورہ کیا، چینی قیادت سے ملاقاتیں کیں، وزیراعظم شہباز شریف کا ایران اور کویت کے سربراہان سے ٹیلیفونک رابطہ ہوا، اسحاق ڈار نے اقوام متحدہ کی تقریبات میں شرکت کی، مارکو روبیو نے پاکستان کی سفارتی اور ثالثی کوششوں کو تسلیم کیا۔

طاہر حسین اندرابی کا کہنا تھا کہ بھارت نے چناب بیاس لنک ٹنل کے حوالے سے ٹینڈر طلب کیے ہیں، بھارت نے پاکستان کو ان آبی منصوبوں کی باقاعدہ اطلاعات دیں نہ کچھ بتایا۔ یہ سندھ طاس معاہدے اور جنیوا آبی کنونشن سمیت دیگر عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ بھارت ایک مرتبہ پھر پانی کو ہتھیار کے طور پر استعمال کررہا ہے، خوراک یا پانی کے تحفظ کیخلاف غیرقانونی کوششیں قبول نہیں کی جائیں گی، پاکستان اس ضمن میں تمام جوابی آپشنز کا حق رکھتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کیجانب سے چناب کا پانی بیاس کی جانب موڑنے کی کوششوں سے آگاہ ہیں، سلال ڈیم کی ڈی سلٹنگ کا معاملہ بھی تشویشناک ہے، بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں سلال ڈیم کی ڈی سلٹنگ کی پیشگی اطلاع نہیں دی، سندھ طاس معاہدے کے تحت پاکستان مغربی دریاؤں کا پانی بلاروک ٹوک استعمال کرسکتا ہے۔

طاہر حسین اندرابی کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر کا معاملہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ تنازع ہے، کسی بین الاقوامی شخصیت کا مقبوضہ کشمیر کا دورہ صورتحال تبدیل نہیں کرسکتا، سوئس سفیر کے دورہ مقبوضہ کشمیر پر سوئس حکام سے رابطے میں ہیں۔

انکا مزید کہنا تھا کہ روس اور طالبان رجیم کے معاہدے پر کچھ کہنا فی الحال قبل از وقت ہو گا۔

یورپی یونین کے نمائندہ خصوصی کا پاکستان میں انسانی حقوق سے متعلق بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ یورپی یونین کے ساتھ اچھے ڈائیلاگ رہے، پاکستان انسانی حقوق کے معاملے پر مثبت پیش رفت کررہا ہے، انسانی حقوق سے متعلق رپورٹس متعلقہ اداروں کو جمع کراتے ہیں۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے