ماسکو: روس کے وزیر خارجہ Sergey Lavrov نے کہا ہے کہ ایران سے متعلق کسی بھی ممکنہ معاہدے میں نہ صرف ایران بلکہ اس کے پڑوسی ممالک کے مفادات کو بھی مدنظر رکھا جانا چاہیے، جبکہ خطے میں کشیدگی کے خاتمے کے لیے مذاکرات کا سلسلہ جاری رہنا ضروری ہے۔
ایک روسی اخبار کو دیے گئے انٹرویو میں سرگئی لاروف نے کہا کہ امریکا ایران کے ساتھ موجود کشیدہ صورتحال کو تسلیم کرتا ہے اور اس مسئلے کے حل کے حوالے سے تشویش کا شکار ہے۔ ان کے بقول واشنگٹن اس بحران کے حل کا واضح راستہ تلاش کرنے میں مشکلات کا سامنا کر رہا ہے۔
روسی وزیر خارجہ نے کہا کہ موجودہ صورتحال کی بنیادی ذمہ داری خود امریکا پر عائد ہوتی ہے، کیونکہ ماضی کی بعض پالیسیوں نے خطے میں عدم استحکام کو بڑھایا ہے۔
سرگئی لاروف نے ایران اور امریکا کے درمیان جاری سفارتی کوششوں کا حوالہ دیتے ہوئے پاکستان کے کردار کو سراہا اور کہا کہ روس پاکستانی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات کی بھرپور حمایت کرتا ہے۔ ان کے مطابق سفارتی رابطوں اور مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانا خطے میں پائیدار امن اور استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ سعودی عرب اور مصر بھی مذاکراتی عمل میں مثبت کردار ادا کر رہے ہیں، جس سے فریقین کے درمیان اعتماد سازی اور کشیدگی میں کمی کی امید پیدا ہوئی ہے۔
روسی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ تمام متعلقہ فریقوں کو بات چیت کے دروازے کھلے رکھنے چاہئیں کیونکہ سفارت کاری ہی خطے کے پیچیدہ مسائل کے حل کا مؤثر ذریعہ ثابت ہو سکتی ہے۔
