کے پی ٹی، پاکستانی کمپنیوں کا کنسورشیم ، ریئل اسٹیٹ سیکٹر کی اسٹاک ایکسچینج میں لسٹڈ مشہور کمپنی ڈولمین ریٹ اور سعودی سرمایہ کار گروپ کا کراچی کی ساحلی پٹی پر دبئی اور سنگاپور طرز کا جدید تجارتی شہر بنانے کا منصوبہ اب حقیقت بنے گا
صرف کراچی کی ساحلی پٹی ہی نہیں اب شاید کراچی کی قسمت بھی بالآخر بدلنے کی جانب پہلا بڑا قدم اٹھالیا گیا ہےاس بار چین کی جگہ سعودی عرب اور مقامی اسٹیک ہولڈرز اس اہم ترین منصوبے کیلئے سامنے آئے ہیں،پاکستان، سعودی عرب اور پاکستان کے چند بڑے بزنس گروپس نے مل کر کراچی میں ایک جدید میری ٹائم بزنس ڈسٹرکٹ ساحلی کاروباری مرکز بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں ایک مفاہمتی یادداشت ایم او یو پر 6 جون 2026 ہفتے کے روز کراچی پورٹ ٹرسٹ ، پاکستانی کمپنیوں کا کنسورشیم ، ریئل اسٹیٹ سیکٹر کی اسٹاک ایکسچینج میں لسٹڈ معروف بزنس مین عارف حبیب کی کمپنی ڈولمین ریٹ اور سعودی سرمایہ کار گروپ نجد گیٹ وے ہولڈنگ کمپنی کے مابین ایم او یو ( مفاہمتی معاہدہ) طے پاگیا ہے،اس پورےمنصوبے کو آسان زبان میں بیان کرنے اور اس کا پاکستان خاص طور سے کراچی کو کیا فائدہ ہوگا بتانے کی کوشش کرتے ہیں۔
یہ منصوبہ کراچی کے مشہور ایم ٹی خان روڈ پر، کراچی پورٹ ٹرسٹ کی 140 ایکڑ قیمتی زمین پر بنایا جائے گا۔اس منصوبے میں چار بڑے نام شامل ہیں جن کا ذکر اوپر کیا جا چکا ہے۔۔ اس منصوبے میں کے پی ٹی زمین فراہم کرے گا،سعودی بزنس کونسل کا گروپ اور پاکستانی کمپنیاں مل کر سرمایہ کاری کریں گے جبکہ ڈولمین ریٹ تعمیرات کی ذمے دار ہوگی اس طرح اس منصوبے میں ان ڈائریکٹ پاکستانی شہریوں کی شمولیت بھی ہو جائے گی جو اسٹاک ایکسچینج میں ڈولمین ریٹ کے شیئر ہولڈرز ہوں گے۔
میری ٹائم بزنس ڈسٹرکٹ سمندر کے کنارے ایک ایسا جدید ترین شہر یا علاقہ ہوگا جہاں بین الاقوامی معیار کے تجارتی دفاتر، شاپنگ مالز، ہوٹل ، تفریحی مراکز اور بحری تجارت سے جڑے بزنس قائم کیے جائیں گے۔
جس سے تین بڑے اور درجنوں چھوٹے فائدے حاصل ہوں گے،دنیا بھر سے بڑے سرمایہ کار یہاں اپنا پیسہ لگائیں گے،منصوبےکی تعمیر اور بعد میں کاروبار چلنے سےہزاروں لوگوں کو نوکریاں ملیں گی،کراچی کایہ علاقہ دنیا کے دیگر بڑےساحلی شہروں جیسے دبئی یا سنگاپور کی طرح خوبصورت اور جدید نظر آئے گا جس سے دنیا بھر میں کراچی اورپاکستان کا شاندار تاثر پیدا ہوگا جبکہ پورے کراچی میں ایک نئے انداز کی تبدیلی وقت کے ساتھ گہری ہوتی چلی جائے گی جس کے بیش بہا معاشی فوائد وقت کے ساتھ برسوں سے مشکلات کا شکار کراچی کے کروڑوں شہریوں کی زندگیوں میں خوشحالی کی نوید بنیں گے۔
کراچی پورٹ ٹرسٹ کے مطابق منصوبے پرکام شروع کرنےسےپہلے پاکستانی قانون کے مطابق تمام اجازت نامے اورقانونی تقاضے پورے کیےجائیں گےجس کا آغازکردیا گیا ہے،اگریہاں وزیراعظم کی پورٹ ایکشن فورس اور اس کے سربراہ کے پی ٹی کے جی ایم آپریشنز برگیڈیئر یونس کا ذکر نہ کیا جائے تو یہ ان کے ساتھ زیادتی ہوگی جنہوں نے صرف ایک سال میں درجنوں کارروائیاں کرکے کے پی ٹی کی 100 ارب روپے مالیت کی قیمتی ترین درجنوں ایکٹر زمین قبضہ مافیا سے چھڑائی جس میں موجودہ معاہدے والی ایم ٹی خان کی کچھ زمین بھی شامل ہے۔
