ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے واضح کیا ہے کہ ایران مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے سفارتی مذاکرات کا حصہ بنا رہے گا، تاہم وہ اپنی دفاعی پوزیشن سے دستبردار نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ایران بیک وقت سفارت کاری اور قومی دفاع دونوں راستوں پر عمل پیرا ہے اور کسی دباؤ کے تحت میدانِ جنگ نہیں چھوڑے گا۔
صدر پزشکیان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ’’دفاع اور سفارت کاری قومی طاقت کے دو بنیادی ستون ہیں۔ ہم نے نہ میدان چھوڑا ہے اور نہ ہی مذاکرات کی میز۔‘‘ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے بعد ایک مرتبہ پھر محدود نوعیت کے حملوں کا تبادلہ دیکھنے میں آیا۔
