وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی جے یو آئی کے مفتی محمود مرکز آمد، فضل الرحمان سے ملاقات

پشاور میں خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی جمعیت علمائے اسلام کے مفتی محمود مرکز پہنچ گئے۔

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کی جس میں صوبائی حقوق کے حصول کیلئے مشترکہ جد و جہد پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ملاقات میں آئندہ وفاقی بجٹ، صوبے کے حصے سے متعلق امور  پر  بھی گفتگو ہوئی۔ سہیل آفریدی کا کہنا تھاکہ خیبرپختونخوا کو این ایف سی میں ضم اضلاع کا حصہ نہیں مل رہا، پنجاب حکومت نے خیبرپختونخوا کیلئے گندم کی فراہمی بند کی ہے۔

ان کا کہنا تھاکہ وفاق کی خیبرپختونخوا کو گیس کی فراہمی میں  رکاوٹیں تشویشناک ہیں، وفاق خیبرپختونخوا کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک کر رہا ہے۔

سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ این ایف سی ایوارڈ سمیت بہت سے نکات پر اتفاق ہوا ہے، صوبائی خودمختاری پرمتفق ہیں، ہرصوبےکے عوام وسائل کے مالک ہیں،  توقع رکھتا ہوں کہ صوبائی حکومت صوبےکے عوام کے مفاد میں کام کرےگی۔

مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ جنوبی اضلاع میں حکومتی رٹ ختم ہوچکی ہے، مسلح گروپس ہیں، فاٹا عملاً اب تک ضم نہیں، اس کے واجبات اب تک پورے نہیں ہوئے، 2017 میں فاٹا ضم ہوا تھا، ابھی تک وہاں بندوبستی تقسیم نہیں ہوئی۔

سربراہ جے یو آئی کا کہنا تھا کہ پنجاب سے گندم کی ترسیل پر پابندی آئین کی خلاف ورزی ہے، اب تو پاک افغان سرحد بھی بند ہے، پھر بھی ہمارے صوبے کے عوام پر پنجاب نےگندم بندکی ہے۔

ان کا مزید  کہنا تھا کہ گلگت بلتستان میں الیکشن کو مسترد کرتے ہیں، اس پر بھی ہمارا اتفاق ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے