وسائل کی تقسیم کا تنازع، وفاقی بجٹ میں تاخیر کی بڑی وجہ بن گیا

وسائل کی تقسیم کا تنازع وفاقی بجٹ میں تاخیر کی بڑی وجہ بن گیا،وفاق اور صوبوں کے درمیان قابل تقسیم محاصل کے فارمولے پر اختلاف برقرار ہے۔

ذرائع کےمطابق وفاق نے صوبوں سے تقریباً 1200 ارب روپےاضافی وسائل مانگے ہیں،تاہم صوبے اپنے حصے میں کمی کرنے پر تیار نہیں، جس کے باعث معاملے پر مزید مذاکرات متوقع ہیں۔

وسائل کی تقسیم پراتفاق کے بعد وفاقی بجٹ 12 جون کو پیش کرنےکی تجویز زیرغورہے،وفاقی حکومت صوبوں کومجموعی طور پر تقریباً 8200 ارب روپے دینے کی خواہاں ہے،جبکہ موجودہ فارمولے کے تحت صوبوں کا حصہ تقریباً 9400 ارب روپے بنتا ہے۔

ذرائع کےمطابق وفاق نے پنجاب سے 650 ارب،سندھ سے 300 ارب، خیبرپختونخوا سے 180 ارب اور بلوچستان سے 110 ارب روپےاضافی حصہ چھوڑنےکامطالبہ کیا ہے،سندھ کے لیےترقیاتی بجٹ 50 ارب سے بڑھا کر 62 ارب روپے کرنے پر بھی اتفاق ہوا ہے،وفاق کا مؤقف ہےکہ اضافی وسائل دفاع، قومی سلامتی اور ریلیف کے شعبوں پرخرچ کیےجائیں گے،این ایف سی میں تبدیلی کیلئےقانون سازی یا صوبوں کی رضامندی لازمی قرار دی گئی ہے۔

 

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے