پاکستان نے بین الاقوامی فٹبال میں ایک تاریخی سنگ میل عبور کرتے ہوئے مالدیپ کے دارالحکومت مالے میں منعقدہ ڈائمنڈ جوبلی انٹرنیشنل فٹبال ٹورنامنٹ کا ٹائٹل جیت لیا۔ فائنل میں قومی ٹیم نے افغانستان کو 0-2 سے شکست دے کر پہلی مرتبہ کسی اسٹینڈ الون بین الاقوامی فٹبال ٹورنامنٹ کا اعزاز اپنے نام کیا۔
بدھ کے روز کھیلے گئے فائنل میں پاکستان نے منظم کھیل اور شاندار دفاعی حکمت عملی کا مظاہرہ کیا۔ قومی ٹیم کے اسٹرائیکر شایق نے پہلے ہاف میں اپنی غیر معمولی مہارت سے گول اسکور کرکے پاکستان کو برتری دلائی، جبکہ متبادل کھلاڑی ہارون حمید نے اضافی وقت کے آخری لمحات میں دوسرا گول کرکے فتح پر مہر ثبت کر دی۔
یہ کامیابی پاکستانی فٹبال کی تاریخ میں خصوصی اہمیت رکھتی ہے۔ اس سے قبل پاکستان نے آخری مرتبہ 1952 میں ایشین کواڈرینگولر فٹبال ٹورنامنٹ میں کامیابی حاصل کی تھی، تاہم وہ ایونٹ لیگ فارمیٹ میں منعقد ہوا تھا اور ٹرافی پاکستان اور بھارت نے مشترکہ طور پر جیتی تھی۔ پاکستان کی آخری بڑی فائنل شرکت 1962 کے مرڈیکا کپ میں ریکارڈ کی گئی تھی۔
فائنل میں افغانستان نے ابتدائی منٹوں میں جارحانہ کھیل پیش کیا، لیکن پاکستانی ٹیم نے جلد ہی میچ کا کنٹرول سنبھال لیا۔ بائیں ونگ سے اوٹس خان کی متحرک کارکردگی نے افغان دفاع کو مسلسل دباؤ میں رکھا۔ 24ویں منٹ میں ایک فری کک کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورتحال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے شایق نے گیند کو خوبصورتی سے جال کی راہ دکھائی اور پاکستان کو برتری دلائی۔
گول کے بعد قومی ٹیم نے میچ پر اپنی گرفت مضبوط رکھی، اگرچہ افغانستان نے واپسی کی متعدد کوششیں کیں۔ پہلے ہاف کے اختتامی لمحات میں افغان ٹیم کا ایک خطرناک حملہ کراس بار سے ٹکرا گیا، جس سے پاکستان کی برتری برقرار رہی۔
دوسرے ہاف میں پاکستان نے اعتماد کے ساتھ کھیل جاری رکھا۔ عادل نبی کا ایک زوردار شاٹ بار سے ٹکرایا جبکہ ہیڈ کوچ نولبرٹو سولانو کی جانب سے بروقت تبدیلیوں نے ٹیم کو توانائی فراہم کی۔ میچ کے آخری مراحل میں مقابلہ مزید سخت ہوگیا، تاہم پاکستانی دفاع اور گول کیپر ثاقب حنیف نے افغان حملوں کو ناکام بنائے رکھا۔
