امریکی ارب پتی کاروباری شخصیت اور ایلون مسک کی مجموعی دولت ایک کھرب ڈالر (ایک ٹریلین ڈالر) سے تجاوز کر گئی ہے، جس کے بعد وہ دنیا کے امیر ترین افراد میں ایک نئی تاریخ رقم کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اس غیر معمولی اضافے کی بنیادی وجہ ان کی خلائی تحقیقاتی کمپنی SpaceX کا ریکارڈ ساز ابتدائی عوامی حصص فروخت (IPO) ہے، جس نے عالمی مالیاتی منڈیوں میں نئی توجہ حاصل کی ہے۔
رپورٹس کے مطابق اسپیس ایکس نے تقریباً 75 ارب ڈالر مالیت کے شیئرز فروخت کیے، جس کے بعد کمپنی کی مجموعی مالیت 1.7 ٹریلین ڈالر سے زیادہ ہو گئی۔ کمپنی کی قدر میں اس بڑے اضافے نے ایلون مسک کے حصص کی مالیت کو بھی نمایاں طور پر بڑھا دیا۔
مالیاتی تجزیہ کاروں کے مطابق اس پیش رفت کے بعد ایلون مسک کی مجموعی دولت 1.1 ٹریلین ڈالر سے تجاوز کر گئی ہے، تاہم ماہرین اس بات کی نشاندہی کر رہے ہیں کہ یہ دولت بڑی حد تک "پیپر ویلتھ” پر مشتمل ہے، یعنی اس کا انحصار ان کمپنیوں کے حصص کی مارکیٹ ویلیو پر ہے جن میں مسک کی ملکیت موجود ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مستقبل میں حصص کی قیمتوں میں نمایاں کمی واقع ہوتی ہے تو ان کی مجموعی دولت میں بھی خاطر خواہ کمی آ سکتی ہے۔ اسی لیے ایسی دولت کو نقد اثاثوں کے برابر تصور نہیں کیا جاتا۔
ایلون مسک کے اثاثے صرف اسپیس ایکس تک محدود نہیں ہیں۔ ان کی ملکیت میں Tesla، xAI، Neuralink اور The Boring Company کے بڑے حصص بھی شامل ہیں، جو ان کی مجموعی دولت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
