وفاقی حکومت کے مالی سال 2026-27 کے بجٹ کو کسانوں نے مسترد کر دیا ہے۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ بجٹ میں زرعی شعبے کو کوئی خاطر خواہ ریلیف نہیں دیا گیا جبکہ ڈی اے پی اور یوریا کھاد کی قیمتوں میں بھی کمی نہیں کی گئی۔
کسانوں کے مطابق حکومت کو بجٹ میں کھاد اور زرعی اسپرے کی قیمتوں پر سبسڈی دینی چاہیے تھی تاکہ پیداواری لاگت میں کمی آتی اور کسانوں کو ریلیف ملتا۔ ان کا کہنا ہے کہ زرعی آلات کی قیمتیں بھی مسلسل بڑھ رہی ہیں جس سے کاشتکاری مزید مہنگی ہو گئی ہے۔
دوسری جانب زرعی ادویات اور کھاد فروخت کرنے والے دکانداروں کا کہنا ہے کہ پہلے کسان بڑی تعداد میں ان سے اسپرے اور کھاد خریدتے تھے، تاہم بڑھتی قیمتوں کے باعث اب کاروبار شدید متاثر ہو چکا ہے اور فروخت میں نمایاں کمی آ گئی ہے۔
کسانوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ڈی اے پی اور یوریا کھاد کی قیمتوں میں کمی کی جائے اور زرعی شعبے کے لیے خصوصی سبسڈی کا اعلان کیا جائے تاکہ زرعی پیداوار میں اضافہ اور کسانوں کے مسائل میں کمی ممکن ہو سکے
