امریکا ایران مفاہمتی یادداشت کا یورپی طاقتوں نے خیرمقدم، آبنائے ہرمز کھولنے پر زور

امریکہ نے طے شدہ تجارتی معاہدے کی خلاف ورزی کی تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا، یورپین یونین

برطانیہ، فرانس، جرمنی اور اٹلی نے امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت (Memorandum of Understanding) کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے خطے میں کشیدگی کم کرنے اور سفارتی حل کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔

چاروں یورپی ممالک کی جانب سے جاری مشترکہ بیان میں اس بات پر زور دیا گیا کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی اور عالمی برادری خطے میں عدم پھیلاؤ (Non-Proliferation) کے اصولوں پر مکمل طور پر قائم رہے گی۔

بیان میں کہا گیا کہ ایران کے ساتھ کسی بھی آئندہ پیش رفت کا انحصار واضح، قابلِ تصدیق اور عملی اقدامات پر ہوگا۔ یورپی ممالک کے مطابق اگر ایران اپنی ذمہ داریوں پر مؤثر انداز میں عمل کرتا ہے تو اس کے بدلے میں پابندیوں میں مرحلہ وار نرمی پر غور کیا جا سکتا ہے۔

یورپی طاقتوں نے آبنائے ہرمز کی اہمیت پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے اس آبی گزرگاہ کا فوری اور غیرمشروط طور پر کھلا رہنا انتہائی ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی جہاز رانی کی آزادی اور عالمی منڈیوں کا استحکام تمام فریقوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

مشترکہ اعلامیے میں لبنان کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سیاسی استحکام کی مکمل حمایت کا اعادہ بھی کیا گیا۔ چاروں ممالک نے اس بات پر زور دیا کہ لبنان میں امن و استحکام پورے مشرقِ وسطیٰ کے امن سے جڑا ہوا ہے اور وہاں کسی بھی قسم کی کشیدگی میں کمی کے لیے سفارتی کوششوں کو جاری رکھا جانا چاہیے۔

یورپی ممالک کا کہنا تھا کہ موجودہ سفارتی پیش رفت خطے میں دیرپا امن کے لیے ایک موقع فراہم کرتی ہے، تاہم اس کی کامیابی تمام فریقوں کے عملی اقدامات، باہمی اعتماد سازی اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری سے مشروط ہوگی۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے