مراد علی شاہ نے پوسٹ بجٹ نیوز کانفرنس میں کہا ہے کہ آئین میں این ایف سی کو مکمل تحفظ حاصل ہے اور این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبوں کے حصے کی رقوم میں کسی قسم کی کمی نہیں کی جا سکتی۔
انہوں نے کہا کہ وفاق اور تمام صوبوں کے درمیان اس بات پر اتفاق پایا گیا ہے کہ جو بھی اقدامات کیے جائیں گے وہ آئینی حدود کے اندر رہ کر کیے جائیں گے، آئین میں واضح طور پر درج ہے کہ وفاق اور صوبے ایک دوسرے کو گرانٹ فراہم کر سکتے ہیں۔
وزیراعلیٰ سندھ نے بجٹ کے حوالے سے بتایا کہ صوبائی حکومت نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ کیا ہے تاکہ مہنگائی کے اثرات کو کم کیا جا سکے۔
مراد علی شاہ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ سندھ حکومت آئینی تقاضوں کے مطابق صوبے کے مالی اور انتظامی حقوق کے تحفظ کے لیے اپنا کردار ادا کرتی رہے گی، تاہم صوبے میں امن و امان اور سکیورٹی کیلئے خطیر رقم مختص کی گئی ہے۔
آرٹیکل 164 میں لکھا ہے وفاقی اور صوبائی حکومتیں گرانٹس دے سکتی ہیں، وفاق نے تمام صوبوں کو بتایا کہ ان کی کیا کیا ضروریات ہیں، ہمیں اس سال بجٹ کے علاوہ بہت رقم دینی پڑی، سانحہ گل پلازہ میں بھی پیسے دیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا ہے کہ صوبائی ٹیکس وصولی 623 ارب روپے تک پہنچ گئی، حکومت سندھ نے آئینی اختیارات استعمال کرتے ہوئے پیسے دیے، آئین میں یہ شق ڈالنے پر شہید ذوالفقار علی بھٹو کو سلام پیش کرتا ہوں۔
وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ کسانوں کو سپورٹ کیا تو گندم کی ریکارڈ پیداوار ہوئی، کسانوں کو تھوڑی سی سپورٹ ملی تو انہوں نے گندم کی ریکارڈ کاشت کی، ایکسائز کا ہدف تھوڑا کم کیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ بجٹ کا حجم 3 ہزار 525 ارب روپے ہیں، ہمارے اخراجات 2 ہزار 560 ارب روپے ہیں، جبکہ گرانٹس کی مد میں بھی حکومت کے اخراجات ہوتے ہیں، یونیورسٹیز کیلئے بھی گرانٹ رکھی گئی ہے۔
