ایران کے خاتم الانبیاء سینٹرل ہیڈکوارٹر سے منسوب ایک بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران نے امریکہ کے ساتھ حالیہ مفاہمتی یادداشت کی مبینہ خلاف ورزی اور جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملوں کے تسلسل کے ردعمل میں آبنائے ہرمز کو سمندری آمدورفت کے لیے بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی "اسنا” (ISNA) سے منسوب رپورٹ کے مطابق فوجی کمان نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ اقدام اس وجہ سے کیا گیا ہے کہ واشنگٹن نے جنگ کے خاتمے سے متعلق حالیہ مفاہمتی یادداشت کی ابتدائی شقوں پر عمل درآمد نہیں کیا جبکہ اسرائیل نے بھی لبنان میں جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزیاں جاری رکھیں۔
بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں بڑی تعداد میں شہری ہلاک اور بے گھر ہوئے جبکہ اسرائیلی افواج نے لبنان سے مکمل انخلاء سے بھی انکار کیا، جسے ایران نے علاقائی استحکام کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔
خاتم الانبیاء سینٹرل ہیڈکوارٹر سے منسوب بیان میں مزید کہا گیا کہ آبنائے ہرمز کی بندش تہران کے جوابی اقدامات کا ابتدائی مرحلہ ہے اور اگر "جارحانہ کارروائیاں” اور "معاہدوں کی خلاف ورزیاں” جاری رہیں تو مزید اقدامات بھی کیے جا سکتے ہیں۔
